مملکت کی تفریحی صںعت کی عالمی سطح پر موجودگی، جنرل اینٹرٹینمنٹ اتھارٹی کی دسویں سالگرہ
سعودی عرب کی جنرل اینٹرٹینمنٹ اتھارٹی جس نے گزشتہ دہائی میں مملکت کے اندر ثقافتی انقلاب برپا کیا ہے، رواں ماہ اپنے قیام کی دسویں سالگرہ منا رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مئی سنہ 2016 میں وجود میں آنے کے بعد سے یہ اتھارٹی تفریحی سرگرمیوں کو ضابطوں کے دائرے میں لائی ہے، سرمایہ کاروں کو بااختیار بنایا ہے اور سٹیک ہولڈرز کے مابین رابطے کا کام کیا ہے تاکہ مملکت میں تفریح کا پائیدار ماحول بن سکے۔
اتھارٹی نے قومی ٹیلنٹ کی تعمیر میں بھی خصوصی پروگرام مرتب کر کے سرمایہ کاری کی ہے جس کے ذریعے سعودی پروفیشنلز کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس کے کارہائے نمایاں میں ریاض سیزن کے چھ ایڈیشن کا انعقاد بھی ہے جس کا آغاز سنہ 2019 میں ہوا تھا جو تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے آج تفریح کی دنیا میں ایک جانا پہچانا نام بن چکا ہے۔
اِس سیزن کی برانڈ ویلیو 3.2 بلین امریکی ڈالر کے مساوی ہے جس سے اس کی تیز رفتار ترقی اور بین الاقوامی سطح پر مقبولیت اجاگر ہوتی ہے۔
’جوائے ایواڈز‘ بھی اس شعبے کے مشہور سالانہ ایونٹس کا حصہ بن چکے ہیں جس میں دنیائے عرب اور دیگر اقوامِ عالم کے بڑے بڑے ستارے شرکت کرتے ہیں اور انھیں میڈیا کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی بہت زیادہ پذیرائی ملتی ہے۔

اس شعبے کو مزید وسعت دینے کے لیے سعودی عرب میں اینٹرٹینمنٹ سِٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جس کا نام ’بِیسٹ لینڈ‘ ہے۔ اس پروجیکٹ کو وسعت دینے میں شہرت یافتہ کونٹینٹ کریئیٹر مسٹر بیسٹ نے بھی تعاون کیا ہے جس سے اس کی جدت پر مبنی عالمی تفریحی تجربات تخلیق کرنے کی خواہش کے عزم کا علم ہوتا ہے۔
بدھ کو ایکس پر اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آل الشیخ نے ملک میں تفریحی شعبے کی نشو و نما کے لیے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے تعاون اور سپورٹ کا شکریہ ادا کیا۔

ترکی آل الشیخ نے لکھا ’یہ دس برس سے بھی زیادہ عرصے کا نتیجہ ہے کہ مملکت میں آج تفریح کا ایکو سسٹم ارتقائی منازل طے کرکے 39 سیزن اور 21 تفریحی پروگرام مکمل کر چکا ہے جس کے متنوع تجربات 320 ملین مہمانوں تک پہنچے ہیں۔ ان کوششوں نے تفریحی شعبے میں مملکت کی عالمی سطح پر موجودگی میں اضافے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔‘
آج جنرل اینٹرٹینمنٹ اتھارٹی اپنے اُس سفر پر گامزن ہے جس کا مطمحۂ نظر مستقبل کے ایسے وژن کی تعمیر ہے جس میں دس برس کی محنت، طرح طرح کے انیشیٹیوز اور ایسے ارتقائی منصوبے شامل ہیں جو مملکت کے تفریحی شعبے کی تشکیل کر رہے ہیں۔