Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب ٹرک کے پیچھے لکھے الفاظ گلزار کی شاعری میں ڈھل گئے

گلزار کا کہنا ہے کہ ایک ٹریک کے پیچھے ’کجرارے‘ دیکھ کے انہیں گانا لکھنے کا خیال آیا (فوٹو: انڈین ایکسپریس)
انڈیا کے معروف شاعر اور فلم ساز گلزار نے اپنے مشہور گانے ’کجرارے‘ کجرارے، تیرے کارے کارے نیناں‘ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ یہ الفاظ انہوں نے ایک ٹرک کے پیچھے لکھے دیکھے تھے، جس سے انہیں گانا لکھنے کا آئیڈیا ملا۔
انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آج جمعرات کو گلزار اپنی 88 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور ان کا نغمہ نگاری کا کیریئر چھ دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔
گلزار انسانی جذبات کو انتہائی خوبصورت الفاظ پہنانے کے حوالے سے کافی مشہور ہیں۔
انہوں نے بے شمار نغمے اور نظمیں کہہ رکھی ہیں، جن میں ’میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے‘ سمیت کئی شاہکار شامل ہیں۔
 چند سال قبل انہوں نے ایک ایسی فلم کے لیے آئٹم سانگ لکھا جس میں امیتابھ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن کے علاوہ ایشوریا رائے نے کام کیا، جو بعدازاں ابھیشیک کی دلہن بنیں۔
اگرچہ اس فلم کی ہیروئن رانی مکھرجی تھیں تاہم صرف ایک گانے کے لیے آنے والی ایشوریا رائے کے حصے میں ان سے زیادہ شہرت آئی۔
’بنٹی اور ببلی‘ نامی فلم 2005 میں ریلیز ہوئی تھی۔
ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ’کجرارے‘ کے بارے میں گلزار کا کہنا تھا کہ ’ملک کے شمالی حصے میں ایک سفر کے دوران نے انہیں آگے جاتے ہوئے ایک ٹرک پر ’کجرارے اور کارے کارے نیناں‘ کے الفاظ دکھائی دیے، تو ان کے ذہن میں رہ گئے۔‘

فلم بنٹی اور ببلی 2005 میں ریلیز ہوئی تھی (فوٹو: بالی ویوز)

انہوں نے بتایا کہ جب انہیں ’بنٹی اور ببلی‘ کی کہانی کے بارے میں معلوم ہوا تو ان کے ذہن میں آیا کہ یہ گانا اس کے لیے بہترین رہے گا۔
اس فلم کی کہانی پنجاب سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو انگریزی بولنا چاہتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ مقابلہ حسن میں حصہ لے جبکہ اس فلم کا ہیرو بھی چھوٹے شہر سے تعلق رکھتا ہے اور زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
 گلزار کا اصل نام سمپھورن سنگھ ہے اور وہ 18 اگست 1934 کو پاکستان کے شہر دینہ میں پیدا ہوئے، تقسیم کے بعد ان کا خاندان ممبئی شفٹ ہو گیا۔
گلزار نے پہلی بار 1963 میں بدینی فلم کے پہلی بار نغمے لکھے اور اس کے بعد سے وہ بالی وڈ کے ساتھ مسلسل جڑے ہوئے ہیں، اس دوران انہوں نے بے شمار فلم کے سکرین پلیز بھی لکھے جبکہ انہوں نے بطور فلسماز بھی فلمیں بنائیں۔
ان کو فنی خدمات کے لیے اب تک بے شمار اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

شیئر: