Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سیلاب زدہ علاقوں میں ہیئر کٹنگ کیمپ، ’پیسے نہیں تو کیا ہوا بال تو مفت کاٹ سکتے ہیں‘

کیمپ میں 200 افراد کے بال بنائے گئے جن میں بزرگ اور بچے بھی شامل تھے (فوٹو:باربر ایسوسی ایشن پشاور)
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور میڈیکل کیمپس لگائے گئے جن سے متاثرین کافی مستفید ہو رہے ہیں۔ 
لیکن پشاور کے نواحی علاقے بیلاممندان میں ایک منفرد قسم کا امدادی کیمپ لگایا گیا ہے۔
بیلا ممندان کے حجاموں کی جانب سے لگائے گئے اس کیمپ میں متاثرین کے لیے مفت ہئیر کٹنگ اور شیو  بنانے کی سروس دی گئی۔
باربر ایسوسی ایشن پشاور کے صدر عابد حسین نے اردو نیوز کو بتایا کہ کمشنر پشاور کی ہدایت پر ایک روزہ فری ہئیرکٹنگ کیمپ لگایا گیا جس میں 15 حجاموں نے حصہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’کیمپ میں 200 افراد کے بال بنائے گئے جن میں بزرگ اور بچے بھی شامل تھے اور تمام متاثرین کو مفت سروس دی گئی۔ 
عابد  حسین نے کہا کہ ’یہ علاقہ سیلاب سے  متاثر تھا۔ گھروں کے ساتھ حجاموں کی دکانیں بھی پانی میں ڈوب چکی تھیں۔ کئی ہفتوں سے متاثرین نے بال نہیں بنوائے تھے اور نہ بالوں کو خضاب لگایا گیا تھا۔
صدر باربر ایسوسی ایشن نے مزید بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ متاثرین کو ریلیف ملے۔ اس لیے ہم نے اپنی طرف سے کیمپ کا اہتمام کیا۔ اگلا کیمپ چارسدہ کے متاثرہ علاقے میں لگائیں گے۔‘
’ہم ہمیشہ کی طرح اس مشکل وقت میں سیلاب زدگان کے ساتھ تعاون میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اپنی تمام تر خدمات سر انجام دینے میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔‘

ایک روزہ فری ہئیرکٹنگ کیمپ میں 15 حجاموں نے حصہ لیا (فوٹو: باربر ایسوسی ایشن پشاور)

بیلاممندان کے ایک رہائشی نے بتایا کہ تین ہفتے بعد بال داڑھی بنوانے کا موقع ملا ہے۔ اپنے بچوں کے بال بھی کٹوائے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر پشاور شفیع اللہ نے کہا کہ ’متاثرہ افراد کو ہر لحاظ سے ریلیف دینا ہے۔ اس لیے میڈیکل کیمپوں کے ساتھ ساتھ اس قسم کے کیمپس بھی لگا رہے ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں زندگی کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان شہریوں کا خیال رکھا جائے۔ 
’ہم نے ہئیر کٹنگ کیمپ اس لیے لگایا تاکہ یہ افراد مختلف محسوس کرسکیں اور واپس نارمل روٹین کی طرف لوٹ سکیں۔‘

شیئر: