Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گاڑیوں کی مکمل انشورنس، ساما نے نئے ضوابط جاری کر دیے 

ساما کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی مکمل انشورنس ضروری نہیں ہے( فائل فوٹو عرب نیوز)
سعودی سینٹرل بینک (ساما) نے گاڑیوں کے مکمل انشورنس کے ضوابط جاری کیے ہیں۔
اس کا مقصد انشورنس کرانے والی پارٹی اور کمپنی کے درمیان معاہدے کو منظم کرنا اور گاڑی کی مکمل انشورنس سکیم کے بنیادی نظام میں یکسانیت پیدا کرنا ہے۔ 

اردو نیوز کا فیس پیج لائک کریں

عاجل ویب سائٹ کے مطابق ساما نے بیان میں کہا کہ ’گاڑیوں کی مکمل انشورنس ضروری نہیں ہے۔ نئے ضوابط میں واضح کیا گیا ہے کہ کس قسم کی انشورنس لازمی ہے اور کون سی اختیاری ہے.‘
ساما کے مطابق ’گاڑیوں کی مکمل انشورنس سکیم کے تحت کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ انشورنس کرانے والی پارٹی کو جملہ تفصیلات سے آگاہ کرے۔ امیدوار کو اختیاری کوریج کے بارے میں بتایا جائے۔‘
’اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ  متبادل گاڑی کا کرایہ، شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے ضرورت پڑنے پر مدد، موت، جسمانی چوٹ کی صورت میں مدد، ڈرائیور یا انشورنس کرانے  والے کے صحت اخراجات، بیرون مملکت حادثات کی صورت میں انشورنس کے معاملات، انشورنس کرانے والے کے رشتہ دار ڈرائیور کی کوریج  کے حوالے سے بتایا جائے کہ اضافی کوریج کا انتخٓب کرتے وقت کیا لاگت آئے  گی۔‘  
ساما نے گاڑیوں کی مکمل انشورنس سکیم کی بابت استثنی کے ضوابط بھی مقرر کیے ہیں۔
ضوابط کے مطابق انشورنس معاہدے کے دونوں فریق پیکیج پر اتفاق کریں۔ کٹوتی کی رقم پر عمل درآمد کا طریقہ کار متعین کریں، گاڑی کی جزوی تباہی کی صورت میں متعلقہ اداروں کی جانب سے اصلاح و مرمت کی لاگت متعین کرنے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔
متعلقہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق تکنیکی اعتبار سے گاڑی مکمل تباہ ہونے کی نشاندہی کی حکمت عملی مقرر کریں۔ انشورنس کرانے والے فریق اور انشورنس کمپنی ایسی گنجائش پیدا کریں کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہونے کی صورت میں اس کی مارکیٹ ویلیو کی مناسب نشاندہی کس طرح کی جائے۔ انشورنس کرانے والے کو انشورنس معاوضے کے تخمینے کا مناسب راستہ نکالا جائے۔ 

اردو نیوز کا یوٹیوب چینک سبسکرائب کریں

ساما نے انشورنس کمپنی کو ہدایت کی کہ’ وہ انشورنس پیکیج کی پیشکش کے وقت یہ بات انشورنس کرانے والے پر واضح کرے کہ وہ گاڑی کے مکمل انشورنس اور کمپنی کے انشورنس پیکیجز کے بارے میں فرق کرے‘۔
’گاڑی کی مکمل انشورنس پالیسی متعین ہوتی ہے جبکہ اتفاق رائے  سے طے پانے والے پیکیجز اس سے مختلف ہوتے ہیں دونوں کے احکام ایک دوسرے پر لاگو نہیں ہوں گے‘۔

شیئر: