Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ و لیبر قانون کی 21 ہزار خلاف ورزیاں ریکارڈ

غیرقانونی تارکین کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا جرم ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی  مزید 21 ہزار 22 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 8 ہزار511 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 26 سے 4 مارچ 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 15 ہزار 38 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار484 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور دو ہزار 500 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار466 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 67 فیصد ایتھوپین، 32 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 33 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
 سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 15 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ 
  مجموعی طور پر 21 ہزار 178 تارکین جس میں 19 ہزار 665 مرد اور ایک ہزار 513 خواتین شامل ہیں اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔ ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 14 ہزار982 پر حراست میں لیا گیا۔

انہیں سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے، 2 ہزار187 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ 8 ہزار511 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ 
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ  ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

 

شیئر: