سعودی ولی عہد کی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ترکیہ، برطانیہ اور قبرص کے رہنماؤں سے بات چیت
سعودی ولی عہد نے کہا کہ مملکت خطے کے استحکام کو نقصان پہنچانے والی کارروائی کو مسترد کرتی ہے (فوٹو:عرب نیوز)
سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے سنیچر کو اعلیٰ سطح کے ٹیلی فونک رابطے کیے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کی۔
عرب نیوز کے مطابق یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی لہر سے نبردآزما ہے۔
سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان، برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر اور قبرصی صدر نیکوس کرسٹودولائیڈز کے ساتھ بات چیت میں سعودی ولی عہد نے زور دیا کہ مملکت کسی بھی ایسی کارروائی کو مسترد کرتی ہے جو خطے میں استحکام کو نقصان پہنچائے۔
یہ سفارتی رابطے اس وقت ہوئے ہیں جب ’امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ‘ جو 28 فروری کو شروع ہوئی، اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو بنیادی طور پر بدل رہی ہے۔
صدر رجب طیب اردوغان سے بات چیت کے دوران سعودی ولی عہد نے حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی جو تُرکیہ کی سرحدوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے ہر اقدام کی مکمل حمایت کا یقین دلایا جو تُرکیہ کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے کیا جائے گا۔
تُرکیہ نے حال ہی میں رپورٹ کیا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے مشرقی بحیرہ روم میں ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکا، جو تنازع کے دائرہ کار میں وسعت کی نشاندہی کرتا ہے۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے سعودی عرب کے ساتھ برطانیہ کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایران کے ’غیر محتاط‘ حملوں کی مذمت کی جو سعودی سرزمین پر ہوئے، اور زور دیا کہ برطانیہ ان اقدامات کے ساتھ کھڑا ہے جو ریاض اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لیے کر رہا ہے۔
حالیہ کشیدگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب گذشتہ ہفتے سنیچر کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف بڑا فضائی حملہ کیا تھا۔
اس حملے کے بعد ایران نے خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
یہ تنازع، جو 28 فروری 2026 کو اچانک شدت اختیار کر گیا تھا، اب مملکت کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیل چکا ہے۔
تین مارچ کو ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ وہ جواب دینے کا ’مکمل حق‘ محفوظ رکھتا ہے۔
کابینہ نے زور دے کر کہا کہ مملکت اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کو ان مسلسل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
