متحدہ عرب امارات کے صدر نے سنیچر کو ابوظبی ٹی وی کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد امارات ’مزید مضبوط‘ ہو کر اُبھرے گا، جبکہ ایران کے خلیج بھر میں حملے جاری رہے۔
عرب نیوز کے مطابق شیخ محمد بن زاید النہیان نے ٹی وی چینل کو بتایا کہ یو اے ای ’جنگ کے دور سے گزر رہا ہے، لیکن ہم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلیں گے۔‘
ان کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب اُن کے ملک اور دیگر خلیجی ریاستوں پر مزید حملے کیے گئے۔
مزید پڑھیں
-
مشرق وسطیٰ میں سیاحت کی صنعت کو جنگ نے کیسے متاثر کیا ہے؟Node ID: 901445
اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
امارات کی وزارتِ دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’وزارتِ دفاع تصدیق کرتی ہے کہ سنی جانے والی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے نتیجے میں تھیں۔‘
رہائشیوں کو ایک موبائل الرٹ بھیجا گیا، جس میں انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ محفوظ عمارتوں میں پناہ لیں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں۔
دبئی ایئرپورٹ، جو بین الاقوامی ٹریفک کے لحاظ سے دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے، نے فضائی دفاع کے ایک انٹرسیپشن کے بعد سنیچر کو آپریشن معطل کر دیا۔ کچھ دیر بعد محدود پیمانے پر پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے کہا کہ ’ہم نے آج 7 مارچ سے جزوی طور پر آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے، اور کچھ پروازیں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے چل رہی ہیں۔‘
The siren has been sounde. Citizens and residents are urged to remain calm and head to the nearest safe place.
— Ministry of Interior (@moi_bahrain) March 7, 2026
مسافروں کو بتایا گیا کہ جب تک ان کی ایئرلائن ان کی فلائٹ کی تصدیق نہ کرے، وہ ایئرپورٹ نہ آئیں کیونکہ شیڈول تبدیل ہو رہے ہیں۔
طویل فاصلے کی ایئرلائن ایمریٹس نے بھی اعلان کیا کہ ’دبئی آنے اور جانے والی تمام پروازیں اگلے اعلان تک معطل ہیں۔‘، لیکن کچھ دیر بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا۔
اس سے پہلے سنیچر کو دبئی اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اے ایف پی کے مطابق دبئی میں دو اور منامہ میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی جہاں وارننگ سائرن بھی بجایا گیا۔












