Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سٹیٹ بینک نے منی چینجرز کو ڈالر ریٹ 250 روپے سے زائد کرنے سے روک دیا؟

ظفر پراچہ نے دعوی کیا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 10 سے 12 بلین ڈالرز لوگوں نے ہولڈ کررکھے ہیں۔ (فوٹو: سٹیٹ بینک آف پاکستان)
 پاکستان میں ڈالر ریٹ  پر کیپ (حد) ختم کرنے کے فیصلے کے بعد مرکزی بینک نے بدھ کو ایکسچینج کمپنیز کو ڈالر کی قیمت 250 روپے سے زائد کرنے سے روک دیا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ایک سینیئر رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ منی چینجرز کے اعلان کے بعد ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے بدھ کو میٹینگ میں منی چینجرز کو پابند کیا کہ ڈالر ریٹ فوری طور پر 250 روپے سے نہ بڑھایا جائے۔
اس حوالے سے جب اردو نیوز نے ترجمان سٹیٹ بینک سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ منی چینجرز کو پابند کرنے کے معاملے پر فی الوقت موقف نہیں دے سکتے۔ ’مرکزی بینک جب بہتر سمجھے گا تو اس حوالے سے اپنا موقف جاری کردے گا۔‘
ایکسچنج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے رکن کے مطابق منگل کے روز منی چینجرز نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ ڈالر ریٹ پر کیپ ختم کر دی جائے گی اور اوپن مارکیٹ کے حساب سے ڈالر کا ریٹ 250 روپے سے زائد رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ طے شدہ نکات کے مطابق بدھ کے روز مارکیٹ کے آغاز پر کیپ ختم کرکے نئے ریٹ جاری کیے۔ ’تاہم سٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیز کے نمائندوں سے صبح میٹینگ کی اور انہیں پابند کیا کہ ڈالر کا ریٹ 250 روپے تک نہ لے جایا جائے، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے  تین روپے اضافے کے ساتھ 243 روپے کا ریٹ جاری کیا۔‘
مرکزی بینک کے دباؤ کے حوالے سے جب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا ہتھا کہ ملک میں ڈالر کی قیمت میں ایک ساتھ اضافہ نہیں کریں گے، مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے آج تین روپے کا اضافہ کیا ہے۔
’گرے مارکیٹ کے فرق کو ختم کرنے میں وقت لگے گا، آج کسی حد تک لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا نظر آرہا ہے، جب تک فرق کم نہیں ہوگا گرے مارکیٹ کا اثر رہے گا۔‘
ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ڈالر کی سمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اس وقت مقامی سطح پر ایسی مارکیٹ بن گئی ہے جہاں ڈالر انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ سے بہتر پیسوں میں خرید و فروخت ہورہا ہے۔ ’لوگ قانونی طریقے سے پیسے بھیجنے اور خریدنے کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں نے ڈالرز ہولڈ کر رکھے ہیں۔‘
ظفر پراچہ نے دعوی کیا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 10 سے 12 بلین ڈالرز لوگوں نے ہولڈ کررکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اپیل کی ہے کہ ڈالر کے بہتر ریٹ دیے جائیں تاکہ لوگ قانونی طریقے سے ڈالر تبدیل کروائیں۔

شیئر: