Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طویق سکلپچر 2026: دارالحکومت ریاض میں آرٹ کے منفرد فن پاروں کی تخلیق

طویق سکلپچر سمپوزیم کے ساتویں ایڈیشن میں ریاض کی ایک بہت مصروف سڑک نے ایک غیر متوقع کردار اختیار کر لیا ہے۔
’ٹریسز آف واٹ وِل بی‘کے عنوان سے منعقد ہونے والے سمپوزیم میں مجسمہ ساز گرینائٹ کو تراش رہے ہیں اور دوبارہ استعمال شدہ دھات کو شکل دے رہے ہیں۔ یہ سمپوزیم 22 فروری تک جاری رہے گا۔
سمپوزیم پرنس محمد بن عبدالعزیز روڈ کے ساتھ جاری ہے جسے مقامی طور پر التحلیہ کہا جاتا ہے اوراس نام کا مطلب نمکین پانی کو میٹھا کرنا (ڈی سیلینیشن) ہے۔ اس مقام کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔
یہ علاقہ تاریخی طور پر ریاض کے ابتدائی ڈی سیلینیشن انفراسٹرکچر سے جڑا ہوا ہے جو ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اسی تبدیلی نے شہر کو پانی کی قلت سے نکال کر طویل المدتی شہری ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دی۔
رواں برس کے اس ایونٹ میں 18 ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 فنکار حصہ لے رہے ہیں جو شہر کے اندر اوپن ایئر میں بڑے پیمانے پر فن پارے تخلیق کر رہے ہیں۔

سعودی مجسمہ ساز وفا القنیبط  نے کہا ان کا کام نمکین پانی سے میٹھے پانی تک کے تعلق کو پیش کرتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

یہ مقام بیک وقت کام کی جگہ اور آئندہ نمائش کی جگہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہےجہاں سمپوزیم کے پورے دورانیے میں مجسمے زیرِ تکمیل حالت میں موجود رہتے ہیں۔
 طویق مجسمہ سازی سمپوزیم کی ڈائریکٹر سارہ الرویتع نے کہا کہ ’اس سال نئے مواد متعارف کروائے گئے ہیں، جن میں ری سائیکل شدہ آئرن شامل ہے جو پائیداری اور تجدید پر توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لائیو مجسمہ سازی کے فارمیٹ کی بدولت وزیٹرز  پتھر اور دھات کو مکمل فن پاروں میں تبدیل ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔‘

امریکی مجسمہ ساز کیرول ٹرنر سمپوزیم میں ایک عوامی فن کا نقطۂ نظر لے کر آئی ہیں (فوٹو:عرب نیوز)

زیادہ تر مقامی پتھر اور دوبارہ استعمال شدہ دھات کے ساتھ فنکار اپنے فن کا اظہار کر رہے ہیں۔
سعودی مجسمہ ساز وفا القنیبط کے لیے یہ تعلق ان کے کام کا مرکزی عنصر ہے، جو پانی کے جسمانی اور علامتی سفر سے متاثر ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میرا کام۔۔۔ نمکین پانی سے میٹھے پانی تک کے تعلق کو پیش کرتا ہے۔
پانچ گرینائٹ کے ٹکڑوں اور کانسی کے دو عناصر کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ کانسی کے حصے پائپوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جو نمکین پانی کو منتقل کرتے ہیں اور اسے قابلِ استعمال چیز میں تبدیل ہونے کا موقع دیتے ہیں۔

سعودی مجسمہ ساز محمد الثقفی کا کام شہری منظرنامے میں ہم آہنگی کے تصورات کی عکاسی کرتا ہے (فوٹو:عرب نیوز)

یہ مجسمہ مزاحمت کے درمیان حرکت کی عکاسی کرتا ہے جہاں پتھر کے ذریعے اس تبدیلی کی دشواری کو ظاہر کیا گیا ہے جبکہ پانی کو ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو زندگی کے تسلسل کو ممکن بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں پتھر کو مشکل مراحل سے گزارتی ہوں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ پانی کے ساتھ زندگی کس قدر آسان ہو جاتی ہے‘ اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ درختوں، ماحول اور روزمرہ زندگی کو برقرار رکھنے میں پانی کا کیا کردار ہے۔‘
پتھر، سٹیل، کانسی اور سیمنٹ کے ساتھ کام کرتے ہوئے امریکی مجسمہ ساز کیرول ٹرنر سمپوزیم میں ایک عوامی فن کا نقطۂ نظر لے کر آئی ہیں۔ اس مقام کے تاریخی اور علامتی تعلق سے نمکین پانی کو میٹھا کرنے کے عمل سے وابستہ انداز میں اپنے کام کا اظہار کر رہی ہیں۔

 اوپن ایئر میں بڑے پیمانے پر فن پارے تخلیق کیے جا رہے ہیں (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)

کیرول ٹرنر نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میرا کام دراصل نیا مستقبل کہلاتا ہے۔ جب زیر زمین پانی اوپر آتا ہے، تو وہ اس مقام پر ملتا ہے جہاں پانی کو میٹھا کیا جائے گا اور دوسری طرف سے تازہ پانی نیچے آتا ہے۔‘
ٹرنر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مجسمہ سازی کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ’ اشیا تخلیق کرنا انہوں نے بچپن سے شروع کیا تھا۔ وقت کے ساتھ، وہ مکمل وقتی طور پر مجسمہ سازی کی جانب منتقل ہو گئیں کیونکہ یہ عمر اور پس منظر سے قطع نظر لوگوں کے درمیان بات چیت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔‘
سعودی مجسمہ ساز محمد الثقفی کا اس سال کے سمپوزیم کے لیے کام ریاض کے بدلتے ہوئے شہری منظرنامے میں ہم آہنگی کے تصورات کی عکاسی کرتا ہے اور طویل عرصے سے موجود روایات اور تیزی سےبدلتے ہوئے معاشرے کے درمیان تعلق پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

 ایونٹ میں 18 ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 فنکار حصہ لے رہے ہیں (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)

یہ مجسمہ سات عناصر پر مشتمل ہے جو گرینائٹ اور سٹینلیس سٹیل سے بنے ہیں۔
محمد الثقفی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’گرینائٹ ایک قومی مواد ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ یہ اصل، بنیاد اور سعودی معاشرے کی جڑوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

’ٹریسز آف واٹ وِل بی‘ تھیم پر مجسمہ ساز فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)

وہ رواں برس پانچویں مرتبہ سمپوزیم میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’میں نے 2600 سے زیادہ مجسمے تخلیق کیے ہیں اور صرف ریاض میں ہی میرے پاس 30 سے زیادہ فیلڈ ورک موجود ہیں۔
چونکہ سمپوزیم کام ابھی زیرِ تکمیل ہیں، وزیٹرز ایک چھوٹی آن سائٹ گیلری بھی دیکھ سکتے ہیں جو مجسموں کے سکیل شدہ ماڈلز پیش کرتی ہے۔

شیئر: