Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روس اور پاکستان کے تعلقات ’دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند‘ ہیں: صدر ولادیمیر پوتن

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ’دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند‘ قرار دیا ہے۔ 
عرب نیوز کے مطابق یہ بات پاکستان میں روسی سفارت خانے کی جانب سے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں بتائی گئی۔ 
واضح رہے کہ ماسکو میں منعقد کی گئی ایک خصوصی تقریب کے دوران رُوس میں پاکستان کے نئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے دیگر ممالک کے سفرا کے ہمراہ صدر پوتن سے ملاقات کی اور انہیں اپنی اسنادِ سفارت پیش کیں۔
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور روس نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر صدر پوتن کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 
’ہم پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس  سی او) کا مکمل رکن ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایس سی او اقتصادی، تکنیکی، ذہین اور ہنرمند افرادی قوت کے لحاظ سے سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے، رُوس اور پاکستان کے تعلقات حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کے لیے فائدہ مند ہیں۔‘
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور رُوس نے اقتصادی تعلقات میں اضافے، بارٹر ٹریڈ اور توانائی کے معاہدوں کے امکانات تلاش کرنے اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ 
حالیہ عرصے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلٰی سطحی وفود کے دورے بھی ہوئے ہیں، ان معاہدوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ ٹیکنالوجی، زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
گذشتہ برس دسمبر میں پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ ’روس اور پاکستان تیل کے شعبے میں ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل مئی 2025 میں پاکستان اور رُوس نے کراچی میں ایک نئی سٹیل مل قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
دونوں ممالک پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں، جو انفراسٹرکچر کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد کراچی سے پنجاب تک درآمد شدہ گیس کی ترسیل کو ممکن بنانا ہے تاکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
سنہ 2023 میں پاکستان اور روس کے درمیان روسی خام تیل کی پاکستان کو فراہمی کے ممکنہ معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی تھی، اور توانائی کے شعبے میں وسیع تر شراکت داری پر مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
 

شیئر: