Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایف9 پارک زیادتی کیس، ’ملزموں کو گرفتاری کے بعد جعلی مقابلے میں مارا گیا‘

متاثرہ لڑکی کی وکیل ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ ملزموں کو 15 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی وکیل نے دعوٰی کیا ہے کہ واقعے کے ملزموں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔
اسلام آباد پولیس نے جمعرات کو ملزموں کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جمعے کو اسلام آباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل ایمان مزاری نے انکشاف کیا کہ ’واقعے میں ملوث ملزموں کو 15 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد پولیس کے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا گیا کہ ملزموں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔‘
ایمان مزاری نے دعوٰی کیا کہ ’متاثرہ لڑکی کو ملزموں کی شناخت کے لیے پولیس سٹیشن بلایا گیا تھا اور ان کی موکلہ نے ملزموں کی شناخت کی تصدیق بھی کی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کیس کے حوالے سے ایس ایس پی سے بات کرنے کی کوشش کرتی رہیں مگر رابطہ نہ ہو سکا۔
’ملزموں کو ٹرائل سے قبل ہی جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا  گیا ہے جو ماورائے عدالت قتل ہے۔‘
ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ملزموں نے ٹرائل کے دوران ممکنہ طور پر بتانا تھا کہ وہ مزید کن جرائم میں ملوث رہے تھے۔
خیال رہے اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 میں مبینہ مقابلے میں دو ملزمان کی ہلاکت پر تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف نائن پارک میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ دو فروری کو پیش آیا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے فائرنگ کر دی جس پر جوابی فائرنگ کی گئی۔
کچھ دیر بعد دوسرے بیان میں پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ مرنے والے افراد کی شناخت ہو گئی ہے اور وہ ایف نائن پارک میں لڑکی سے زیادتی کے واقعے میں ملوث تھے۔
ایف نائن پارک میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ دو فروری کو پیش آیا تھا۔
قائمہ کمیٹی کا کیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار 
گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ایف نائن پارک سے متعلق اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔  
قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں رکن قائمہ کمیٹی محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ زیادتی کے واقعہ پر پیش رفت کے حوالے سے اداروں نے خاطر خواہ جواب نہیں دیا، کمیٹی مطمئن نہیں ہے۔ ہم اس ملک میں اداروں کو بری طرح ناکام ہوتا اور ٹوٹتا دیکھ رہے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ایف نائن واقعہ بڑا سیکیورٹی لیپس تھا، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس حوالے سے نہیں بتایا گیا۔ 
آئی جی اسلام آباد ناصر خان نے کمیٹی کو بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے عوامی مقامات کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 
چیئرمین سی ڈی اے سے ممبران کمیٹی نے ایف نائن پارک کی باڑ اور لائٹ نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ 
کمیٹی نے پولیس کی جانب سے جمع کروائی جانے والی رپورٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ 

شیئر: