پاکستان میں ترسیلاتِ زر بھیجنے والے لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم افراد کے لیے سرمایہ کاری کا ایک موقع پیدا ہوا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس (این پی سی) سکیم کو مزید وسعت دیتے ہوئے سعودی ریال اور اماراتی درہم میں سرمایہ کاری کے نئے سرٹیفیکیٹس متعارف کرا دیے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو اپنی مقامی کرنسی میں محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ پاکستان کی معیشت میں حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ بہتر منافع بھی حاصل کر سکیں۔
مزید پڑھیں
-
پی آئی اے کا سعودی عرب کے لیے ٹکٹس میں 40 فیصد تک کمی کا اعلانNode ID: 903916
سٹیٹ بینک کی جانب سے ایجنٹ بینکوں کو جاری کی گئی ہدایات کے مطابق حکومت پاکستان نے 15 مئی 2026 کو جاری ہونے والے گزٹ نوٹیفیکیشن کے تحت سعودی ریال اور اماراتی درہم میں نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس کے اجرا کی منظوری دی ہے۔
اس سے قبل یہ سرٹیفیکیٹس امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو سمیت چند دیگر کرنسیوں میں دستیاب تھے، تاہم خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو مدِنظر رکھتے ہوئے اب ریال اور درہم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر بھیجنے والے دو بڑے یونٹس شمار ہوتے ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر کے برابر رقم ان ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی اپنے اہلِ خانہ کو بھیجتے ہیں۔
ایسے میں نئی سہولت کے ذریعے پاکستانی کارکنوں اور سرمایہ کاروں کو اپنی مقامی کرنسی کو ڈالر یا کسی دوسری کرنسی میں تبدیل کیے بغیر براہِ راست سرمایہ کاری کا موقع ملے گا، جس سے اخراجات اور کرنسی تبدیل کرنے کے اخراجات بھی کم ہوں گے۔
معاشی امور کے ماہر سینیئر صحافی وکیل الرحمان کے مطابق ’نئے ضوابط کے تحت سعودی ریال اور اماراتی درہم میں سرٹیفیکیٹس خریدنے کے لیے کم سے کم سرمایہ کاری ایک ہزار یونٹس مقرر کی گئی ہے جبکہ اس کے بعد مزید سرمایہ کاری 500 یونٹس کے اضافے سے کی جا سکے گی۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ محدود بچت رکھنے والے اوورسیز پاکستانی بھی اس سکیم میں آسانی سے شامل ہو سکتے ہیں اور اپنی مالی استطاعت کے مطابق سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے شرح منافع کے مطابق سعودی ریال اور اماراتی درہم میں جاری کیے جانے والے سرٹیفیکیٹس پر تین ماہ کی مدت کے لیے مجموعی سالانہ منافع 6.50 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
چھ ماہ کے لیے یہ شرح 6.75 فیصد، ایک سال کے لیے 7 فیصد، تین سال کے لیے 7.25 فیصد جبکہ پانچ سال کی سرمایہ کاری پر 7.50 فیصد سالانہ منافع دیا جائے گا۔
یہ شرحیں ٹیکس سے قبل کی ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کو قابل اطلاق ٹیکس قوانین کے مطابق ادائیگیاں کی جائیں گی۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی حالات میں سرمایہ کاری کی ایسی سکیمیں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے وہ اپنی بچت کو نسبتاً محفوظ ماحول میں رکھ سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک میں کام کرنے والے بہت سے پاکستانی بینک اکاؤنٹس میں رقم رکھنے یا غیر رسمی سرمایہ کاری کے بجائے ایسے سرکاری سرٹیفیکیٹس کو ترجیح دیتے ہیں جہاں حکومت کی ضمانت بھی موجود ہو اور منافع بھی واضح طور پر طے شدہ ہو۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے بھی اس فیصلے کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے شہر دمام میں رہنے والے عرفان بھٹی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آمدنی ریال میں ہوتی ہے اور ماضی میں سرمایہ کاری کے لیے رقم کو دوسری کرنسی میں تبدیل کرنا پڑتا تھا۔
ان کے مطابق ’اس سے ہمیں اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے تھے۔ اب مقامی کرنسی میں براہِ راست سرمایہ کاری کی سہولت انہیں زیادہ آسان اور مؤثر محسوس ہو رہی ہے۔‘
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت پاکستان گذشتہ چند برسوں سے اوورسیز پاکستانیوں کی بچتوں کو باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس اسی حکمت عملی کا تسلسل ہے، جن کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مختلف مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
’ان سرٹیفیکیٹس سے حاصل ہونے والی رقوم حکومت کے لیے زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور مالیاتی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔‘













