بلوچستان کے خوبصورت اور دلکش ساحلی پٹی پر واقع قدرتی پہاڑی مجمسے ’پرنسس آف ہوپ یعنی امید کی شہزادی‘ کو سیاحوں اور بارشوں سے خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
بلوچستان حکومت نے سیاحوں کی رسائی محدود کرنے اور قدیمی ورثے کی حفاظت کے لیے پہرہ لگا دیا۔ جبکہ محکمہ آثار قدیمہ نے ’پرنسس آف ہوپ‘ کو سیاحوں، بارش اور موسمی تغیرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آہنی باڑ لگانے اور اس کے اوپر چھت نصب کرنے کی بھی تجویز دے دی ہے۔
قدرت کا یہ مصورانہ شاہکار کراچی سے تقریباً 150 کلومیٹر دور اور کوئٹہ سے تقریباً 600 کلومیٹر دور ہنگول نیشنل پارک کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے۔ انسانی جسم کی مانند اس مجسمے کو 2002 میں عالمی سطح پر اس وقت توجہ ملی جب معروف ہالی ووڈ اداکارہ اینجلینا جولی اقوام متحدہ کے ایک خیر سگالی دورے پر ہنگول نیشنل پارک آئیں۔
مزید پڑھیں
-
Finding the perfect platform to enjoy your favorite games is crucial for a great gaming experience. Among the leading casino siteleri players can discover thousands of modern slots, live card rooms, and table games in high definition. These sites stand out for their technical stability and seamless mobile optimization, allowing you to play from any smartphone without any interruptions. Additionally, they guarantee top-tier data protection and secure financial transactions, ensuring a completely safe environment for your casual entertainment.
پارا چنار کے سکول میں فائرنگ سے اساتذہ سمیت سات افراد قتلNode ID: 762161 -
ملالہ یوسفزئی کے والدین رکشہ ڈرائیور کے گرویدہ کیوں؟Node ID: 762241
دور سے دیکھنے میں یہ پہاڑی ایک دراز قد خاتون کا مجسمہ معلوم ہوتی ہے جو کچھ تلاش کر رہی ہے اورکسی چیز کی امید کر رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اینجلینا جولی نے اس چٹان کو ’پرنسس آف ہوپ‘ یا کا نام دیا تھا۔
اس علاقے میں مصر کے مشہور اسفنکس مجسمے سے مشہابت رکھنے والا مجسمہ ’اسفنکس آف بلوچستان‘ بھی واقع ہے جسے مقامی لوگ ابوالہول کہتے ہیں۔ اس کا سر انسانی شکل کا جبکہ دھڑ شیر کی مانند ہے۔ ماہرین کے مطابق پہاڑوں کی انوکھی خطوط پر یہ تراش خراش صدیوں سے جاری قدرتی کٹاؤ یعنی سمندری لہروں اور تیز ہواؤں کے عمل کا نتیجہ ہے۔ ان قدرتی مجسموں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہزاروں برس پرانے ہیں۔
یہ علاقہ 2004 میں کراچی کو گوادر سے ملانے والی مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر کے بعد سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا اورحالیہ سالوں میں ملک بھر بالخصوص کراچی سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کراچی سے ٹور آپریٹرز بھی بڑی تعداد میں یہاں سیاحوں کو لاتے ہیں۔
محکمہ آثار قدیمہ بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد بلوچ نے اردو نیوز کو بتایا کہ سیاحوں کی آمد میں اضافے کی وجہ سے اس تاریخی مجمسے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لوگ پہاڑی پر چڑھ جاتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں یا پھر اپنے اور اپنے پیاروں کے نام یہاں لکھتے ہیں جس سے مجسمے کی قدرتی شکل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پتھر نہیں بلکہ ریت اور مٹی کا پہاڑ ہے اس لیے اس کا ڈھانچہ نازک ہے انسانی سرگرمیوں کا اس پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ نے بلوچستان اینٹی کیوٹیز ایکٹ 2014 کے تحت 2020 میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تاریخی احاطوں، عمارتوں، قلعوں اور آثار قدیمہ کے مقامات کو محفوظ ورثہ قرار دیا۔ ان میں کنڈ ملیر اور بوزی ٹاپ کے قریب واقع یہ قدرتی مجسمے بھی شامل ہیں۔
محکمہ آثارقدیمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق بلوچستان کے اینٹی کیوٹیز ایکٹ کے تحت اس قدیمی ورثے کو نقصان پہنچانا جرم ہے اور اس کے مرتکب افراد کو تین سال قید اور دو سے چھ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
جمیل بلوچ نے بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے جمعرات کو صوبائی حکومت کو ’پرنسس آف ہوپ‘ کی حفاظت کے لیے ایک تحریری منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہاڑی مجسمے کے قریب آہنی باڑ لگانے اور مستقل چوکیدار تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سیاحوں کو مخصوص حد سے آگے جانے سے روکا جا سکے۔ فوٹوگرافری کے لیے الگ جگہ مختص کی جائے گی۔ راستے اور اس پہاڑی پر مختلف مقامات پر سیاحوں کے لیے ہدایات پر مشتمل بورڈ بھی لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بارشوں سے بھی اس قدرتی مجسمے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ محکمہ نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ کنکریٹ کے پلر تعمیر کر کے مجسمے کے اوپر فائبر گلاس شیٹ کی چھت بنائی جائے تاکہ اسے موسمی تغیرات سے بھی بچایا جا سکے۔
جمیل بلوچ کے مطابق ’ہم سیاحتی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے مگر یہ مجسمہ اس علاقے کی خوبصورت کا باعث اور ہمارا قومی و تاریخی ورثہ ہے جس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔‘












