Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گوادر: سمندر میں کشتی پر فائرنگ، دو سکیورٹی اہلکار جان سے گئے، نوشکی میں سکول میں فائرنگ سے استاد سمیت دو افراد ہلاک

بلوچستان کے ضلع گوادر اور نوشکی میں جمعے کو پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات میں دو کوسٹ گارڈ اہلکاروں اور ایک استاد سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق گوادر کے ساحلی علاقے کنٹانی میں سمندری حدود میں ایران کی سرحد کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے پاکستان کوسٹ گارڈ کی سمندری گشت پر مامور کشتی پر  فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کشتی سوار دو اہلکار سپاہی کاشف اور سپاہی حمزہ جان سے گئے۔
گوادر پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آور اسپیڈ بوٹ میں سوار تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد ایف سی اور کوسٹ گارڈ اہلکاروں نے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے بعض غیر قانونی ڈپو اور ہوٹلوں کو مسمار کر دیا۔ 
یہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران سمندر کے اندر سکیورٹی اہلکاروں پر اس طرز کا دوسرا حملہ ہے- اس سے قبل اپریل میں اسی سمندری حدود کے قریب کشتی میں سوار کوسٹ گارڈ کے تین اہلکاروں کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ جس کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔
دوسری جانب جمعہ کی صبح نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی میں واقع ایک سرکاری سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ایک استاد اور ایک مقامی شخص ہلاک ہو گئے۔ 
پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار نقاب پوش حملہ آور سکول کے اندر داخل ہوئے اور لائبریری میں موجود حق نواز نامی شخص پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ فائرنگ کی زد میں سکول کا استاد محمد اکرم بھی آگیا اور جانبر نہ ہوسکا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت سکول میں اساتذہ موجود تھے تاہم طلبہ جا چکے تھے۔
نوشکی پولیس کے ایک سینئر افسر نے  اردو نیوز کو بتایا کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مقتول حق نواز ماضی میں کالعدم بلوچ مسلح تنظیم سے وابستہ رہا تھا تاہم کچھ عرصہ قبل اس نے سرنڈر کر دیا تھا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے نشانے پر تھا۔ چند ماہ قبل اس کا ایک ساتھی بھی مارا گیا تھا۔
 

شیئر: