ہنٹاوائرس سے متاثرہ کروز کا آج سپین میں لنگرانداز ہونے کا امکان
جس بندرگاہ پر جہاز کو لنگرانداز کیا جائے گا وہاں میڈیکل ٹیمیں ضروری سامان کے ساتھ پہنچ چکی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
یورپ کی ہیلتھ ایجنسی نے کہا ہے کہ مہلک ہنٹا وائرس کی وبا سے متاثر ہونے والے کروز شپ کے تمام مسافروں کے کسی سے بھی رابطے کو احتیاطی تدابیر کے تحت ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جہاز کے آج سپین کے علاقے ٹینیریف کے قریب لنگرانداز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپی سینٹر فار ڈیزیز اینڈ کنٹرول کا کہنا ہے کہ ایسے مسافر جن میں وائرس کی علامات موجود نہیں، کو ان کے ممالک میں عام تجارتی جہاز نہیں بلکہ انتہائی محفوظ انداز میں اپنے ملک میں روانہ کیا جائے گا جہاں ان کو قرنطینہ سے گزرنا پڑے گا
مختلف ممالک اپنے شہریوں کو ایم وی ہانڈیس سے نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں، اس وقت کی اطلاعات کے مطابق متاثر ہونے والے آٹھ افراد میں سے تین ہلاک ہو چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آٹھ میں سے چھ کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو مشتبہ کیسز ان کے علاوہ ہیں۔
ای سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ جہاز سے اتارے جانے کے وقت تمام مسافروں کو خطرہ سمجھا جائے گا تاہم ضروری نہیں ان کو اپنے ملک پہنچنے پر بھی ایسا ہی سمجھا جائے۔
ایجنسی کی جانب سے یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ جن مسافروں میں علامات ظاہر ہوں ان کو جہاز سے اترتے ہی ترجیحی بنیادوں پر طبی معائنے اور ٹیسٹنگ کی سہولتیں دی جائیں گی جبکہ ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے یا تو ٹینیریف میں ہی الگ تھلگ کر دیا جائے گا یا پھر طبی نگران میں ان کے ملک روانہ کیا جا سکتا ہے۔
ہنٹا وائرس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ مرض چوہوں یا دوسرے ایسے چھوٹے جانوروں سے پھیلتا ہے جو اشیا کو کتر کر کھاتے ہیں تاہم اس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہوتے ہیں مگر ایسا ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کا وسیع پیمانے پر پھیلنے کے خدشات بہت کم ہیں۔
نیدرلینڈز کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کروز تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا جس میں ڈیڑھ سو مسافر سوار ہیں اور ان میں سے زیادہ تر لوگ برطانوی، امریکی اور ہسپانوی ہیں۔
جزیرہ نما کیپ ودے کی انتظامیہ نے وائرس کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد جہاز کو بندرگراہ تک آنے کی اجازت نہیں دی تھی اور وہ کئی روز سے سمندر میں کھڑا ہے۔
