Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں جرائم کی وائرل ویڈیوز پر وزیراعلیٰ مریم نواز برہم، ’وہ ڈر کہاں گیا؟‘

ماضی میں شہباز شریف اخبارات کے تراشے سامنے رکھ کر افسران کی سرزنش کرتے تھے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران جرائم کی شرح میں اچانک اضافے نے صوبائی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں ایک ’ہائی وولٹیج‘ اجلاس منعقد ہوا جس کی اندرونی کہانی اب سامنے آئی ہے۔
جیسے ہی اجلاس شروع ہوا، وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ہال میں نصب پروجیکٹر پر پنجاب کے مختلف علاقوں سے وائرل ہونے والی ان ویڈیوز کے کلپس چلائے گئے جن میں شہری سوشل میڈیا (ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام) پر پولیس کی نااہلی اور جرائم کے خلاف دہائیاں دیتے نظر آئے۔
ان ویڈیوز کے چلنے کے دوران ہال میں مکمل خاموشی رہی جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب اور دیگر حکام سے سوال کیا ’یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کہاں گیا وہ ڈر اور کہاں گئے وہ دعوے کہ جرائم کم کر دیے گئے ہیں؟‘
اجلاس میں شریک ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مریم نواز کی برہمی نے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور کی یاد تازہ کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں شہباز شریف اخبارات کے تراشے سامنے رکھ کر افسران کی سرزنش کرتے تھے، اب مریم نواز نے سوشل میڈیا کلپس کو ’چارج شیٹ‘ کے طور پر استعمال کیا ہے۔
اجلاس میں بالخصوص فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں خاتون صحافی لائبہ زینب کی گاڑی کی بیٹری چوری ہونے کے واقعے پر پولیس کی کارکردگی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔
صحافی لائبہ زینب نے اردو نیوز بتایا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی ویڈیو اجلاس میں دکھائی گئی ہے لیکن اس کے فوراً بعد پولیس حرکت میں آئی، انہیں تھانے بلا کر برآمد شدہ بیٹری واپس کی گئی جو ان کے بقول ایک ’خوشگوار حیرت‘ تھی۔

سید مشرف شاہ کے مطابق پولیس اب کارکردگی دکھانے کے لیے دوبارہ متحرک نظر آ رہی ہے (فائل فوٹو: لاہور پولیس)

انہوں نے بتایا کہ ’مجھے پولیس افسران کے فون آئے اور فوری ریکوری کے بارے میں بتایا گیا۔‘
سینیئر صحافی سید مشرف شاہ جو کئی دہائیوں سے کرائم رپورٹنگ کر رہے ہیں، اس صورتحال کو ’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ کی تبدیلی سے جوڑتے ہیں۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ سابق آئی جی ڈاکٹر عثمان  کے دور میں ایک طویل عرصے تک ایک ہی سیٹ اپ کام کر رہا تھا جس سے ہم آہنگی پیدا ہو چکی تھی۔
نئے آئی جی اور نئے افسران کی تعیناتی کے بعد سسٹم کو دوبارہ پٹڑی پر آنے میں وقت لگ رہا ہے۔ کچھ نئے تعینات ہونے والے افسران کا جرائم کی بیخ کنی کا سابقہ ریکارڈ زیادہ جاندار نہیں ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’اجلاس کے بعد پولیس میں ’افرا تفری‘ کی سی کیفیت ہے اور سی سی ڈی سمیت تمام شعبے اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔
اب تو رپورٹنگ کے لئے مواد بھی نہیں دیا جا رہا جو پہلے ذرائع کے حوالے سے مل جاتا تھا۔ اب سختی ہے کہ پولیس مقابلوں کی خبریں نہ چھپیں۔ پولیس اب اگلے اجلاس سے پہلے پہلے اپنی کارکردگی دکھانے میں لگی ہوئی ہے۔‘

 
 

شیئر: