Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قطری ٹینکر آبنائے ہرمز کی طرف روانہ، ایران و امریکہ جنگ کے خاتمے سے اب بھی دور

کئی روز کی جھڑپوں کے بعد سنیچر کو آبنائے نسبتاً ماحول رہی جبکہ امریکہ ایران کو بھجوائی گئی جنگ کے خاتمے کی تازہ تجاویز پر جواب کا منتظر ہے۔
دوسری جانب قطر کا ایک ٹینکر آبنائے ہرمز کی طرف بڑھ رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایل ایس ای جی شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز کی طرف جانے والا قدرتی مائع گیس کا ٹینکر براستہ پاکستان جا رہا ہے جس کے بارے میں سورسز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے قطر اور ثالثی کرنے والے پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کے طور اس کی منظوری دی ہے۔
اگر یہ سفر مکمل ہو جاتا ہے تو یہ جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے قطر کا پہلا ٹینکر ہو گا جو آبنائے ہرمز سے گزرے گا۔
حالیہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز کے اندر اور اس کے آس پاس جھڑپوں کے کئی واقعات ہوئے اور متحدہ عرب امارات بھی جمعے کو حملے کی زد میں آیا۔

اس وقت امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی چل رہی ہے تاہم جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا تھا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ تہران تجاویز پر گھنٹوں کے اندر جواب دے دے گا تاہم 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر جانے کے باجود ایران کی جانب سے اس کے آثار دکھائی نہیں دیے۔
اگر ان تجاویز پر بات آگے بڑھتی ہے تو اس سے فوری طور پر جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا جبکہ مزید معاملات پر بعدازاں بات ہو گی جن میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اگلے ہفتے چین کے دورے پر جانے والے ہیں، پر اس جنگ کے حوالے سے کسی حتمی اقدام تک پہنچنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے توانائی کے ذرائع کی عالمی مارکیٹس شدید اتار چڑھاؤ آیا ہے اور عالمی معیشت کے لیے ایک خطرے کے طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران سے اس آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند رکھا ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
ایران کی نیم سرکاری ایجنسی فارس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جمعے کو آبنائے ہرمز میں ایرانی فوج اور امریکی جہازوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد صورت حال پرسکون ہو گئی تاہم مزید جھڑپوں کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے۔

شیئر: