سمارٹ واچز اور بینڈز کی قیمتوں میں فوری طور پر 15 سے 20 فیصد تک اضافے کا خدشہ
سمارٹ واچز اور بینڈز کی قیمتوں میں فوری طور پر 15 سے 20 فیصد تک اضافے کا خدشہ
ہفتہ 9 مئی 2026 5:17
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
دنیا کے مہنگے ترین پریمیئم برانڈز بشمول ایپل، سام سنگ اور ہواوے اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے محکمے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے انڈر انوائسنگ کی روک تھام اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان سے بچانے کے لیے درآمدی سمارٹ واچز، سمارٹ بینڈز اور سمارٹ رِنگز کی کسٹمز ویلیوز میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایف بی آر کے ذیلی ادارے ’ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن‘ کی جانب سے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت جاری کردہ نئی رولنگ کے مطابق نظرثانی شدہ قیمتوں کا اطلاق دنیا بھر سے پاکستان درآمد کی جانے والی تمام ’نان جی ایس ایم ویئرایبل ڈیوائسز‘ پر ہوگا۔
واضح رہے کہ ’نان جی ایس ایم‘ سے مراد ایسی سمارٹ واچز یا بینڈز ہیں جن میں سِم کارڈ ڈالنے کی سہولت موجود نہیں ہوتی اور وہ آزادانہ طور پر سیلولر نیٹ ورک سے منسلک ہونے کے بجائے بلیوٹوتھ یا وائی فائی کے ذریعے کام کرتی ہیں۔
اردو نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ نے درآمدی برانڈز کو ان کے معیار اور قیمت کے لحاظ سے تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے۔
کیٹیگری اے میں مشہور اور درمیانی قیمت والے برانڈز جیسے شاؤمی، ریڈمی، اوپو اور ویوو وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے لیے کسٹمز ویلیو 5 ڈالر فی عدد مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح کیٹیگری بی میں ڈینی، فاسٹر، رونن، زیرو اور لاگ اِن جیسے برانڈز شامل ہیں، جن کی کسٹمز ویلیو 3 ڈالر طے کی گئی ہے۔
اسی طرح تیسری کیٹیگری (سی) میں عام اور سستے برانڈز رکھے گئے ہیں جن کی ویلیو ڈیڑھ ڈالر فی عدد مقرر کی گئی ہے۔ پریمیئم برانڈز پر بھاری ٹیکس
ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ دنیا کے مہنگے ترین پریمیئم برانڈز بشمول ایپل، سام سنگ اور ہواوے اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان برانڈز پر ٹیکس ان کی اصل بین الاقوامی قیمت کے مطابق عائد کیا جائے گا جو کہ مذکورہ بالا ویلیوز سے کہیں زیادہ ہوگا۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان اشیا کو درآمدی کاغذات میں اصل قیمت سے انتہائی کم ظاہر کر کے منگوایا جا رہا تھا۔
حکام ایف بی آر کے مطابق ان اشیا کو درآمدی کاغذات میں اصل قیمت سے انتہائی کم ظاہر کر کے منگوایا جا رہا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’اس سے حکومت کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ ایف بی آر نے اب ان کی ایک کم سے کم قیمت مقرر کر دی ہے جس کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔‘
اس سلسلے میں 7 اپریل 2026 کو ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا تھا جس میں امپورٹرز اور تاجروں کو بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمتوں اور درآمدی مالیت سے متعلق دستاویزی ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا تعین درآمدی ڈیٹا کی جانچ پڑتال، مارکیٹ کی تفصیلی انکوائری اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ جامع مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کے خیال میں کسٹمز ویلیو میں اضافے کے باعث ان ڈیوائسز پر لگنے والی ڈیوٹی اور ٹیکس بڑھ جائیں گے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں سمارٹ واچز اور بینڈز کی قیمتوں میں فوری اضافے کا امکان ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمارٹ واچز اور بینڈز کی قیمتوں میں فوری طور پر 15 سے 20 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے، جس کے باعث متوسط طبقے کے لیے سستی اور معیاری ٹیکنالوجی تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی۔
خاص طور پر کیٹیگری اے میں شامل مقبول برانڈز کی قیمتیں، جو پہلے ہی ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث دباؤ میں تھیں، اب مزید بڑھنے سے خریداروں کی قوتِ خرید متاثر ہوگی۔