Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

معرکۂ حق عظیم فتح، دنیا میں آج پاکستان کے دوستوں کی تعداد ماضی سے کہیں زیادہ: فیلڈ مارشل

پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پچھلے برس آج ہی کے دن پاکستان نے صرف جنگی کامیابی نہیں سمیٹی بلکہ عالمی سطح پر ملک کے وقار اور اہمیت میں بھی اضافہ ہوا۔
اتوار کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی معرکہ حق کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انڈیا کے حملے اور اس کے جواب میں ہونے والے اقدامات کا تذکرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ وہ طاقت کا توازن تبدیل کر دے گا مگر وہ بھول گیا کہ پاکستان پہلے کبھی طاقت سے مرعوب ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا۔
ان کے مطابق ’آج کا دن سب کے لیے افتخار کا باعث ہے اور ہمیں ایک بے مثال کامیابی ملی، جس پر آنے والی نسلیں بھی ناز کریں گی۔‘

’کسی بھی مہم جوئی کے اثرات دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’دشمن یہ جان لیں کہ آئندہ پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کی گئی تو اس بار جنگ کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔‘
ان کے مطابق ’روایتی جنگیں اور ماضی کا حصہ بن چکی ہیں عصر حاضر مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی، جس میں جدید ٹیکنالوجی بشمول سائبر اینڈ الیکٹرانک وار فیئرز ڈرونز اور مصنوعی ذہانت اہم ترین کردار ادا کریں گے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان سب امور کے پیش نظر اور معرکہ حق کے تجربات کی روشنی میں افواج پاکستان کو ملٹی ڈومین آپریشنز سے مزید ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز قائم کر دیا گیا ہے، خلائی پروگرام کو وسعت دی جا رہی ہے اور آرمی راکٹ فورس کمانڈ بھی قائم کی جا چکی ہے۔
ان کے بقول ’بحریہ میں ہنگور کلاس آبدوز کی شمولیت، پاک فضائیہ کے لیے جدید ترین جنگی جہازوں کا حصول اور فتح میزائل سیریز اسی عزم کے تسلسل کی چند ایک مثالیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دفاعی تیاری کا یہ سفر صرف نئے ہتھیار خریدنے تک محدود نہیں بلکہ نئی سوچ، تربیت اور تحقیق سے بھی متعلق ہے۔

’معرکہ حق کی کامیابی کے خارجہ پالیسی پر خوشگوار اثرات‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ معرکہ حق میں مثالی فتح نے ہماری خارجہ پالیسی اور سفارتی اہمیت پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کیے۔ اقوام عالم نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس خطے میں پاکستان ایک ناقابل فراموش حقیقت اور ناقابل تسخیر طاقت ہے۔
گزشتہ سال کے دوران پاکستان کے قومی وقات میں بے مثال اضافہ ہوا، جس کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے۔
آج عالمی ایوانوں اور بین الاقوامی مجالس میں ہماری قیادت کو عزت و تکریم کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، آج دنیا میں ہمارے دوستوں کی تعداد ماضی کے ادوار سے کہیں زیادہ ہے۔
جو نکتہ چیں کل تک ہم پر معترض تھے وہ آج ہمارے متعرف ہیں۔

’سعودی عرب عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ سفارتی کامیابیوں کا عظیم سنگ میل‘

ہماری عسکری صلاحیت اور ٹیکنالوجی پر عالمی اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے دفاعی برآمدات کو بھی تقویت ملی ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کا برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ ہماری سفارتی کامیابیوں کا ایک عظیم سنگ میل ہے۔
یہ معاہدہ باہمی دفاع و سلامتی کی جانب ایک تاریخی قدم ہے جس سے پاکستان کی قائدانہ اور دفاعی صلاحیت کو تقویت ملی۔

’افغانستان فتنے کی پشت پناہی نہ کرے‘

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا جان چکا ہے کہ وہ پاکستان کو روایتی میدان میں شکست نہیں دے سکتا اس لیے دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں افغانستان کو بھی مخاطب کیا اور کہا کہ اس سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ فتنے کی پشت پناہی نہ کرے اور دہشت گردی کے مراکز کا خاتمہ کرے۔‘

 

شیئر: