Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اچھے شریک حیات کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

کسی بھی جوڑے کے لیے عمر کا فرق بے حد اہم ہوتا ہے۔ (فوٹو: پکسابے)
زندگی میں شادی ایک ایسا سنگ میل ہے جس سے گزرنے کے بعد زندگی یا تو آسان ہو جاتی ہے یا فریقین کے لیے انتہائی دشوار۔
شادی دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کے ملاپ کا نام ہے۔ اس لیے شریک حیات کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس امر میں جلد بازی نہ کی جائے بلکہ شریک سفر کے انتخاب کے لیے مناسب وقت حاصل کیا جائے کیونکہ مناسب انتخاب ہی کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے۔
خانگی امور کی ماہر کنسلٹنٹ ڈاکٹر ولا عزام نے سیدتی میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ درست اور مناسب شریک حیات کا انتخاب ہے جس کے لیے مکمل طور پر سنجیدگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے قبل ضروری ہے کہ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل سوچ بچار کے لیے کافی وقت حاصل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جیون ساتھی کا انتخاب ایک اہم ترین انتخاب ہوتا ہے اس لیے جذبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر زاویے سے اس بارے میں سوچا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے اختلافات اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شریک حیات کے انتخاب کے حوالے سے ڈاکٹر ولا نے چند مفید مشورے دیے جو کچھ یوں ہیں۔

مذہب، اخلاق اور رویہ 

زندگی میں شریک حیات کے انتخاب میں مذہب اور اخلاق سب سے اہم اور بنیادی نکتہ ہے، کیونکہ ازدواجی زندگی کا آغاز درست بنیادوں پر استوار ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی عمارت کی بنیاد ہی غلط ہو تو وہ منہدم ہو جاتی ہے۔ اس لیے مذہب، اخلاق اور رویہ ازدواجی زندگی کے لیے بہت اہم ہوتا ہے جس کا درست انتخاب انتہائی ضروری ہے۔ اگر ایک مرد اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے کا پابند نہیں اور اس کے اخلاق بھی درست نہیں تو وہ اچھا شوہر یا شریک حیات ثابت نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر ولا عزام کے مطابق مستقبل کے فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ درست اور مناسب شریک حیات کا انتخاب ہے۔ (فوٹو: پکسابے)

مناسب عمر 

ڈاکٹر ولا عزام اس امر پر زور دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ کسی بھی جوڑے کے لیے عمر کا فرق بے حد اہم ہوتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ فریقین میں عمر کا فرق بہت زیادہ نہ ہو یا اسے یوں کہہ لیں کہ فرق 12 برس سے زائد نہ ہو، تاہم مثالی عمر کے فرق کے لیے کسی حد کا تعین کرنا دشوار کام بھی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عمر میں زیادہ فرق کے باوجود بھی فریقین میں مثالی مفاہمت قائم ہوئی تاہم یہ معاملہ مختلف شخصیات اور ذہنی ہم آہنگی سے تعلق رکھتا ہے۔

تعلیمی مناسبت یا علمی مساوات

تعلیمی میدان میں ہم آہنگی فریقین کے مابین مفاہمت اور صحت مندانہ ماحول تخلیق کرنے میں کافی اہم ثابت ہوتی ہے۔ اس صورت میں فریقین کو ذہنی ہم آہنگی ہونے پر باہمی افہام و تفہیم اور مسائل و اختلافات کو حل کرنے میں کافی آسانی ہوتی ہے۔ 
اس کے برعکس اگر فریقین میں عدم مطابقت ہو تو اس صورت میں ایک فریق جو نسبتاً علمی میدان میں کافی کم ہو، وہ کسی طرح کے احساس کمتری کا شکار ہو سکتا ہے جس سے باہمی تعلقات میں دوری اور کشیدگی میں اضافہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

فکری مطابقت یا ہم آہنگی

سوچ میں ہم آہنگی نہ ہونے یا مکمل طور پر اختلاف ہونے کی صورت میں جوڑے کے درمیان بڑی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں ہر فریق اپنی سوچ کو دوسرے پر لاگو کرنے کے لیے اپنی مناسبت سے دلائل سامنے رکھتے ہوئے یہ تصور کرے گا کہ اس کے دیے ہوئے دلائل کو تسلیم کیا جائے، حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ جو دلائل دیے گئے ہیں وہ حقیقت میں درست بھی ہوں اور یہی نکتہ باہمی اختلاف کی وجہ بن سکتا ہے۔

کسی بھی جوڑے میں بہت زیادہ سماجی فرق ہونا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ (فوٹو: پکسابے)

خود اعتمادی کا حامل

ایک مثالی جوڑے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ مرد پُرکشش اورخود اعتماد شخصیت کا حامل ہو۔ اسے اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہو کیونکہ مرد میں بھرپور خود اعتمادی کا عنصر ہونا ایک کامیاب اور خوشگوار خاندان کی ضمانت ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ولا کا کہنا تھا کہ پُراعتماد شخصیت کا حامل مرد ایک طرح سے اطمینان کا احساس فراہم کرتا ہے جس سے خانگی تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔

جسمانی اور ذہنی صحت کی اہمیت

ایک مثالی شریک حیات کے انتخاب کے لیے ضروری ہے کہ ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جائے جو ذہنی اور جسمانی صحت کا حامل ہو اور اپنی صحت برقرار رکھنے کے لیے اس کا بھرپور خیال بھی رکھتا ہو۔

پابندی اور احساس ذمہ داری

احساس ذمہ داری اور پابندی وہ صفات ہیں جو کسی بھی شخص میں پائی جانا ضروری ہوتی ہیں۔ کیونکہ شادی کے بعد اگر کوئی بھی فریق اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرے گا تو زندگی کی گاڑی چلنا بہت مشکل ہوجائے گی۔ عام طور پر باہمی اختلافات بھی ان ہی وجہ سے بڑھ جاتے ہیں۔
جو بھی احساس ذمہ داری کا حامل ہوتا ہے وہ ہمیشہ نرمی سے معاملات کو آگے لے کر جاتا ہے جس سے مشکل حالات میں بہتر فیصلے سامنے آتے ہیں۔
وہ مرد جو اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس رکھتا ہے اس کے سامنے اہداف واضح ہوتے ہیں اور وہ انہیں سامنے رکھتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ ایسے شخص میں میانہ روی اور تدبر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ کسی بھی اختلاف پر وہ فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے مثبت سوچ کو مقدم رکھتا ہے۔

سماجی فرق 

کسی بھی جوڑے میں بہت زیادہ سماجی فرق ہونا بھی مناسب نہیں ہوتا جس سے عام طور پر فریقین میں ذہنی ہم آہنگی و مفاہمت پیدا نہیں ہوتی۔ 

ایک مثالی جوڑے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ مرد خود اعتماد شخصیت کا حامل ہو۔ (فوٹو: ان سپلیش)

سماجی طور پر نمایاں فرق ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے اختلافات بعد ازاں بڑی مشکلات کا باعث بن جاتے ہیں اور رشتہ ناکامی پر ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ شریک حیات کا انتخاب کرتے ہوئے معاشرتی اعتبار سے برابری ہو یا فرق بہت زیادہ نہ ہو۔

مضبوط شخصیت 

ایک مضبوط شخصیت کا حامل مرد خانگی امور کو بہتر طور پر لے کر چل سکتا ہے۔ مرد جو کہ سربراہ خانہ ہوتا ہے اس کا کمزور شخصیت کا حامل ہونے کی صورت میں خانگی معاملات بہتر طور پر نہیں چلتے بلکہ اس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے باہمی تعاون انتہائی اہم ہوتا ہے، اس لیے خوشگوار اور کامیاب زندگی کے لیے مرد کی شخصیت کا مضبوط ہونا اہم ہوتا ہے۔

جاذبیت یا باعث کشش

اس امر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ مرد کی ظاہری شکل و صورت کیسی ہے، وہ ذاتی صفائی ستھرائی کا کتنا اہتمام کرتا ہے اور کس حد تک خیال رکھتا ہے ۔
اس کے علاوہ نرم دل مرد سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے خاندان سے محبت کرتے ہیں اور سب کا خیال بڑھ چڑھ کر رکھتے ہیں۔

شیئر: