Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خواتین میں شوگر زیادہ خطرناک کیوں ہوتی ہے؟

کچھ عوامل خواتین میں ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ (فوٹو: بشکریہ ہیلتھ لائن)
انڈیا میں ڈاکٹر خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور تشویش صرف تعداد تک محدود نہیں۔ ماہرین کو اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ ذیابیطس خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ شدید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔

حیران کن صنفی فرق

ای ٹی وی بھارت ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ مردوں میں خواتین کے مقابلے میں ذیابیطس زیادہ ہوتی ہے۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں خواتین کے مقابلے میں 17.7 ملین زیادہ مرد ذیابیطس کا شکار ہیں۔
لیکن جب خواتین میں ذیابیطس ہوتی ہے تو اس کے اثرات زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ذیابیطس خواتین میں دل کی بیماری، گردوں کے نقصان، ڈپریشن اور ہارمونل مسائل کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ریسرچ سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف ڈایابیٹیز ان انڈیا (RSSDI) کے ماہرین ایک اہم حقیقت بتاتے ہیں:
ذیابیطس کے شکار مردوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ ان مردوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جنہیں یہ بیماری نہیں۔ جبکہ ذیابیطس والی خواتین میں یہ خطرہ حیران کن طور پر 150 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
یعنی خطرہ تین گنا زیادہ! اس لیے اگرچہ کم خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں، لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔

خواتین زیادہ متاثر کیوں ہوتی ہیں؟

خواتین زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہیں: بلوغت، حیض، حمل اور مینوپاز۔ ان تمام مراحل میں ہارمونز میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، اور ہارمونز خون میں شکر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میٹابولک مسائل کے لیے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔
کچھ عوامل خواتین میں ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں:
پیٹ کے اردگرد موٹاپا
جسمانی سرگرمی کی کمی
مسلسل ذہنی دباؤ
خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ
غیر صحت مند خوراک (خاص طور پر پراسیسڈ فوڈ)
تاہم کچھ خطرات خاص طور پر خواتین سے متعلق ہوتے ہیں۔
حمل کے دوران ذیابیطس:
کچھ خواتین کو حمل کے دوران جیسٹیشنل ذیابیطس ہو جاتی ہے، جو ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے عارضی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ بچے کی پیدائش کے بعد خون میں شکر معمول پر آ سکتی ہے، لیکن معاملہ وہیں ختم نہیں ہوتا۔ جن خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو چکی ہو، ان میں بعد کی زندگی میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

شیئر: