Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کی سیاست ختم شد؟ ماریہ میمن کا کالم

عمران خان سزا یافتہ اور نااہل ہونے کے بعد اٹک جیل پہنچ چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بچپن میں اکثر کہانیوں یا مضامین کے آخر میں لکھا جاتا تھا ختم شد۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ  The End کی صورت میں نمودار ہوتا تھا۔ مطلب دونوں کا یہی ہوتا تھا کہ اب اس کہانی میں مزید کچھ کہنے کے لیے باقی نہیں رہا۔ چاہے قارئین یا ناظرین کو پسند آئے یا نا آئے، ختم شد کا مطلب کہانی کا اختتام ہوتا تھا۔
اگست کا پہلا ہفتہ بھی ختم شد کا ہفتہ ہے۔ ایک طرف اسمبلی اور حکومت اپنی مدت پوری کر کے اختتام پذیر ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ان کے سیاسی مخالف عمران خان سزا یافتہ اور نااہل ہونے کے بعد اٹک جیل پہنچ چکے ہیں۔
عمران خان کی پارٹی کی طرف سے حسب توقع نا ہونے کے برابر اجتجاج سامنے آیا ہے۔ گذشتہ ایک برس میں پی ٹی آئی نے اجتجاج اور جلسے جلوسوں کا شاید کوٹہ بھی پورا کر لیا ہے اور اس کے بعد نتائج کا سامنا بھی کر لیا ہے۔ اس لیے ان کے طرف سے تو فوری طور پر کسی خاص ردعمل کا امکان نہیں ہے۔ عمران خان کا کچھ عرصہ جیل میں ہی قیام کا امکان ہے اور اگر ان کو خلاف توقع ضمانت بھی ملی تو بھی ان کی سرگرمیاں محدود اور مستور ہی ہوں گی۔ کیا ان کی سیاست کا بھی ختم شد ہو گیا ہے؟ اگر ماضی کو بنیاد بنا کر دیکھا جائے تو اس طرح کسی کی سیاست کبھی ختم نہیں ہوئی۔ ہاں بریک البتہ ضرور لگ جاتی ہے جس کا پورا بندوبست ہو چکا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا سوال انتخابات کی تاریخ کا ہے۔ کچھ خوش فہمی اور کچھ ماضی کی روایت، اس لیے بار بار یہی امید پیدا ہوتی ہے کہ نہ نہ کر کہ بھی الیکشن وقت پر ہو ہی جائیں گے۔ قرائن البتہ کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ مشترکہ مفادات کی ادھوری کونسل میں جاتے جاتے مردم شماری کو منظور کر کے التوا کا بندوبست تو ہو ہی گیا ہے۔ اس سے پہلے ترمیم کر کے نگران حکومتوں کو اضافی اختیارات بھی مل چکے ہیں۔ حکومت نے خود بھی انتخابات کی تاریخ سے متعلق کسی کمٹمنٹ دینے سے پرہیز کیا ہے۔ دارالحکومت کے حالات حاضرہ کے نبض شناس صحافی پُریقین ہیں کہ انتخابات کے وقت پر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ آئین تو واضح ہے مگر افواہ آمیز تجزیوں کے مطابق آئین تو بہت سی ایسی چیزوں کے بارے میں واضح تھا جو کہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی تو ایک اور سہی۔

عمران خان کی پارٹی کی طرف سے حسب توقع نا ہونے کے برابر اجتجاج سامنے آیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ان افواہوں کو مزید تقویت پی ڈی ایم اور ان کے سیم پیج کو لے کر شکوک و شبہات سے بھی ملتی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے نگراں وزیراعظم بننے کی ادھوری کوششوں سے لے کر نگراں وزیراعظم کے فیورٹ امیدواروں سے، گمان یہ گزرتا ہے کہ اتنی محنت اور چھان پھٹک تین مہینوں کے لیے تو نہیں ہو گی۔
پی ڈی ایم کے اندر سے بھی سینیٹ میں جو مزاحمت دکھائی گئی وہ بھی ان خبروں کو تقویت دیتی ہے کہ نو اگست کے بعد موجودہ حکومت کی بدستور اقتدار میں رہنے کی کوششوں میں کچھ خلل ضرور آیا ہے۔ پی ڈی ایم کے اندر سے بھی متضاد آوازیں اٹھ رہی ہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں جہاں عملی طور پر گورنر راج چل رہا ہے۔
سوال یہ بھی ہے اگر تاخیر ہوئی تو کتنی ہو گی اور اس سے کیا حاصل ہو گا؟ پہلے سوال کے جواب میں چھے مہینوں سے دو سال کا ذکر ہو رہا ہے۔
کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بات چھ مہینوں تک جا سکتی ہے تو پھر آگے جانے میں کیا حرج ہے۔ اصل سوال دوسرا ہے کہ آخر اس سے کیا حاصل ہو جائے گا۔ اس کا جواب بھی تاریخ میں ہے جس کے دو رخ ہیں۔ پہلا رخ تو سیاست سے بیزاری ہے جو ہر کچھ دہائیوں کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ دوسرا رخ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کا خواب یا سراب ہے جو سنہ 1990 کے بعد سے ہر کچھ عرصے بعد نمودار ہو جاتا ہے۔ قومی حکومت، بنگلہ دیش ماڈل، سیاست نہیں ریاست، پیشہ ورانہ قیادت اور معیشت کا استحکام جیسے نعروں کے ساتھ یہ فلم پھر نئے پرنٹ کے ساتھ خصوصا ًعدم استحکام کے دور میں چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دفعہ یہ کوشش سنجیدہ لگ رہی ہے۔

عمران خان کا کچھ عرصہ جیل میں ہی قیام کا امکان ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سوال یہ بھی ہے سیاسی قیادت کا منصوبہ کیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کو مائنس کرنے کا ابتدائی مرحلہ پورا کر لیا۔ اس سے پیشتر بھی وہ ادھوری اسمبلی میں قانون سازی کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ اسی اسمبلی میں موجود اپوزیشن کے ساتھ مل کر وہ نگراں وزیراعظم بھی منتخب کر لیں گے۔ حیرت اس بات پہ ہو گی اگر وہ الیکشن کے التوا میں پارٹی بن کر پانچ سال کی حد جو کہ آئینی بھی ہے اور نفسیاتی بھی، کو بالائے طاق رکھ دیں۔ کم از کم کامن سینس میں یہ ہضم کرنا مشکل ہے کہ آخر ایسی کیا مجبوری ہو گی جس سے وہ عملی اور بچے کھچے جمہوری مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔ یہ بات طے ہے کہ اگر نوبت اس حد تک آ گئی تو ان سے کوئی توقع رکھنا عبث ہی ہو گا۔

شیئر: