جنوبی عبوری کونسل یمن میں کشیدگی کم کرے، سعودی وزیر دفاع
سعودی عرب جنوبی مسئلے کو ایک ’ منصفانہ سیاسی مسئلہ‘ سمجھتا ہے (فوٹو ایس پی اے)
سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سے سعودی، اماراتی ثالثی کی کوششوں کا جواب دینے، مشرقی یمن میں کشیدگی کم کرنے، حضر موت اور المھرہ کے کیمپوں سے اپنی فورسز واپس بلا کر یہ علاقہ پرامن طریقے سے مقامی حکام کے حوالے کرنے پر زور دیا ہے۔
ایکس اکاونٹ پر’ یمن میں ہمارے لوگوں کے نام‘ کے عنوان سے ایک پیغام میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ’یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی درخواست سعودی عرب کی جانب سے مداخلت کی گئی۔ اس کا مقصد ’فیصلہ کن طوفان‘ اور’ امید نو‘ آپریشنز کے ذریعے یمن بھرمیں ریاستی رٹ کو بحال کرنا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’سعودی عرب نے ہمیشہ سے جنوبی مسئلے کو ایک ’ منصفانہ سیاسی مسئلہ‘ سمجھتا ہے، جسے مذاکرات اور اتفاق رائے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے ریاض کانفرنس اور ریاض معاہدے کو ایسا فریم ورک قراردیا جو گورننس میں جنوبی کونسل کی شرکت کو یقینی بنانا اور طاقت کے استعمال کو مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا ’دسمبر کے آغاز سے حضر موت اور المھرہ میں پیش آنے والےحالیہ واقعات نے تقسیم پیدا کی، یمن کے مشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی کو کمزور اور جنوبی مقصد کو نقصان پہنچایا۔‘
انہوں نے جنوبی علاقے کے متعدد رہنماوں اور گروپوں کی تعریف کی جنہوں نے کشیدگی کم کرنے اور سماجی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ذمہ داری سے کام لیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا’ جنوبی مسئلہ یمن میں کسی بھی جامع سیاسی تفصیے کا حصہ رہے گا۔ اس کا حل اعتماد سازی اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے ہونا چاہیے نہ کہ ایسے اقدامات جو تنازع کو مزید ہوا دیں۔‘
یاد رہے کہ جنوبی عبوری کونسل نے اس ماہ کے دوران جنوب میں وسیع کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو عدن میں اس کے صدر دفتر سے بے دخل کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے ایس ٹی سی فورسز سے مطالبہ کیا کہ دسمبر کے اوائل میں مشرقی صوبوں حضرموت اور مہرہ کے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا، وہ وہاں سے پیچھے ہٹ جائیں۔
