پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس برس پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ مئی میں ہماری افواج، ایئرفورس، نیوی اور عوام نے جنگ کے میدان میں انڈیا کو شکست دی۔
سنیچر کو بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اس جیت کے بعد پاکستان کو پوری دنیا میں قبولیت ملی ہے مگر آپ سب کو معلوم ہے یہ جیت گڑھی خدا بخش کی قربانیوں کے بغیر ناممکن ہوتی۔
’گڑھی خدا بخش کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان ایک ایٹمی طاقت بنا، شہید بے نظیر بھٹو کی وجہ سے پاکستان کو وہ میزائل ٹیکنالوجی ملی جس سے ہم اپنا دفاع کر سکے۔ اور یہ صدر زرداری ہی تھے جنہوں نے چین سے وہ جہاز منگوائے تھے انڈیا کے چھ کے چھ جہاز گرا کے اس جنگ میں کامیابی حاصل کی۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو جو جیت حاصل ہو چکی ہے وہ ابھی تک انڈیا ہضم نہیں کر سکا۔ ہمارے فیلڈ مارشل کا نام سن کر نریندر مودی چھپ جاتے ہیں، غائب ہو جاتے ہیں۔ انڈین وزیراعظم دنیا کے بڑے بڑے فورمز پر جا کر تقریریں کرتے تھے، پاکستان کے بارے میں کیا کیا کہتے تھے لیکن مئی کے ان چند دنوں کے بعد انڈین وزیراعظم غائب ہو چکے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے معیشت، دہشت گردی، سکیورٹی کے حوالے سے مسائل ہیں اور سیاسی بحران ہے۔ ہماری اور آپ کی کوشش ہے کہ ہم ان بحرانوں کا مقابلہ کریں اور پاکستان کو ان مسائل سے نکالیں۔
’اس برس پارلیمان نے 27 ویں آئینی ترمیم بھی منظور کی، ویسے پاکستان کی پارلیمان نے بہت سے آئینی ترامیم منظور کی ہیں لیکن 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے آپ کے کچھ اعتراضات تھے، کچھ شکایتیں تھیں۔ اس میں جو حکومت کی 18 ویں ترمیم کے حوالے سے تجاویز تھیں؛ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے، صوبوں کے حقوق کے حوالے سے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کی، پاکستان پیپلزپارٹی کی اور اس کے کارکنوں کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ جو بھی اس ترمیم میں متنازع تجاویز تھیں وہ آپ نہیں مانے۔‘

انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں جو وہ تجاویز تھیں جن سے پاکستان کا فائدہ ہو یا وہ تجاویز جو پیپلزپارٹی کے منشور کا ہمیشہ حصہ رہیں، اس پر ہم عمل درآمد کر سکے۔ یہ آپ کی اور پیپلزپارٹی کی کامیابی ہے کہ سیاسی میدان میں آپ نے صوبوں کے حقوق بھی بچا لیے، این ایف سی کو جو آئینی تحفظ ہے وہ بھی بچا لیا، اور جو شہید بی بی کا آئینی عدالت کا وعدہ تھا جس میں تمام صوبوں سے جج ہوں گے، اس سے بڑی پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے کامیابی کیا ہو سکتی ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ یہ جو نو مئی جیسے واقعات ہوتے ہیں یا مختلف اداروں کو گالیاں دی جاتی ہیں، یہ سیاست کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
’میں آپ سے پوچھتا ہوں، پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوتا اگر جب مجھے نیب کا نوٹس دیا گیا یا صدر زرداری کو گرفتار کیا گیا تو میں آپ کو کہتا کہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کریں، ہماری دفاعی اڈوں پر حملہ کریں تو آپ کے ساتھ رویہ سخت ہوتا کہ نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا گیا مگر ہم نے ہمیشہ سیاسی اختلاف اور سیاسی مقابلہ کیا جس کے بعد بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔‘













