Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کا غزہ میں جنگ روکنے سے انکار، پناہ گزین کیمپوں پر بمباری

اسرائیلی جنگی جہازوں نے وسطی غزہ میں دو مہاجر کیمپوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک ہوئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
غزہ کی پٹی میں مواصلات کا مقامی نظام جنگ کے بعد تیسری مرتبہ مکمل طور پر معطل ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فلسطینی ٹیلی کام کمپنی پالٹیل نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو اسرائیل نے تمام ٹیلی کمیونیکشن سروسز منقطع کر دی ہیں۔
دوسری جانب انٹرنیٹ تک رسائی کے حق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘نیٹ بلاکس‘ نے کہا ہے کہ ’محاصرے کے شکار علاقے میں مواصلاتی نظام ایک بار پھر معطل ہو گیا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی ترجمان جولیٹ ٹاؤما نے امریکی نیوز ایجسنی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ ’ہم اپنی ٹیم کے اکثر ارکان کے ساتھ رابطہ نہیں کر پا رہے۔‘
اس سے قبل پہلی مرتبہ غزہ کا مواصلاتی نظام 36 گھنٹے جبکہ دوسری مرتبہ چند گھنٹوں تک معطل رہا جس کے بعد وہاں سے صورت حال کے بارے میں جاننے میں مشکلات کا سامنا رہا۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اتوار کی صبح اسرائیلی جنگی جہازوں نے وسطی غزہ میں دو پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک جبکہ کئی درجن کو زخمی ہو گئے تھے۔ 
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں حماس کے حکام کو کچلنا چاہتا ہے۔
غزہ میں وزارت صحت کے حکام نے کہا ہے کہ ایک ماہ سے جاری اس جنگ میں نو ہزار 700 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگر اسرائیلی فوجی گنجان آبادیوں کی جانب بڑھے تو ہلاکتوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے امریکی کی جانب سے امداد کی فراہمی کے لیے جنگ میں عارضی تعطل کی اپیل کے باوجود کہا کہ وہ غزہ پر حملے جاری رکھے گا۔
غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائی کے نیتجے میں عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت پر عالمی سطح پر غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ سنیچر کو واشنگٹن سے برلن تک کی سٹرکوں پر لاکھوں لوگ  نکل آئے جو فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ پر حمکرانی کرنے والی حماس اس کی پوری فوجی قوت کا سامنا کر رہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

دریں اثنا دو مصر کے سیکورٹی اور طبی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ غزہ کے زخمیوں اور غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں کا مصر کے ساتھ واقع رفح کراسنگ کے ذریعے انخلا سنیچر سے معطل ہے۔
ایک سکیورٹی اور طبی ذریعے نے بتایا کہ زخمیوں اور غیرملکیوں کا انخلا کا سلسلہ سنیچر کو اس وقت معطل کیا گیا جب اسرائیل نے زخمیوں کو لے جانے والے ایمبولینسز پر بمباری کی۔
مصر کے صحرا سینا کے ساتھ واقع رفح کراسنگ غزہ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے جسے اسرائیل کنٹرول نہیں کرتا۔
اسرائیل نے حملے روکنے کی اپیلیں مسترد کر دی بلکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے جنگ میں عارضی تعطل کے آئیڈیے کو بھی مسترد کر دیا۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ پر حمکرانی کرنے والی حماس اس کی پوری فوجی قوت کا سامنا کر رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ’غزہ میں موجود ہر کوئی اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ شہر کو گھیرے میں لیا ہے اور شہر سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔

غزہ میں وزارت صحت کے حکام نے کہا ہے کہ ایک ماہ سے جاری اس جنگ میں نو ہزار 700 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وزارت صحت نے کہا ہے کہ سنیچر کو رات گئے اسرائیل نے المغازی کیمپ پر بمباری کی۔
وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں 33 سے زائد افراد مارے گئے جب کہ 42 زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق رہائشیوں اور ریسکیوں حکام ملبے کے نیچے لاشوں یا ممکنہ زحمیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
یہ کیمپ اس علاقے میں ہے جہاں جانے کے لیے اسرائیلی فوج نے غزہ کے رہائشیوں کو کہا تھا کیونکہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائی کا محور شمالی غزہ کو رکھ رہا ہے۔

شیئر: