Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الخبر کے کپلز: بلی اور بطخ کی محبت، ایکس پر ٹرینڈ

مرد کیا، عورتیں اور بچے کیا، ٹی وی چینل والے کیمرے لے کر بیچاری بلی اور بطخ کے پیچھے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں‘ ( فوٹو: ایکس)
الخبر کے ساحل پر بلی اور بطخ کی محبت  ایکس پر ٹرینڈ بن گئی جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا دیوانی ہوگئی ہے۔
مرد کیا، عورتیں اور بچے کیا، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کیا یہاں تو ٹی وی چینل والے کیمرے لے کر بیچاری بلی اور بطخ کے پیچھے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں۔
ایکس پر سعودی عرب کے ٹاپ ٹرینڈ میں ’#كبلز_الخبر‘ ہے جس میں تادم تحریر 5 ہزار 9 پوسٹ کی گئی ہیں۔
آخر کہانی کیا ہے؟

 

الخبر کے کورنیش پر بلدیہ نے عوام کی تفریح کے لیے کچھ بطخیں لاکر چھوڑ دیں جو ساحل پر آنے والے بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کا مرکز بن گئیں۔
کوئی تین دن پہلے لوگوں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ ایک بطخ اور بلی کی آنکھ مچولی چل رہی ہے۔
بطخ جہاں جہاں جاتی ہے، بلی پیچھے پیچھے مٹکتی ہے، بلی جہاں جاکر میاؤں کرتی ہے، بطخ وہاں پئیں پئیں کرتی ہے۔
دیکھا دیکھی کسی نے ویڈیو بنا کر ایکس پر ڈال دی۔
پھر کیا تھا، لوگوں کا تانتا بندھ گیا اور پل بھر میں ایکس پر ٹرینڈ بن گیا۔
 
سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ایک طرف، عوام الناس ایک طرف، دیکھا دیکھی ٹی وی چینل والے بطخ اور بلی کی رومانوی داستان دنیا کو لائیو دکھانے لگے۔
ایکس پر پوسٹوں کی بھرمار ہوگئی اور دلچسپ تبصرے ہونے لگے۔ کسی نے کہا لگتا ہے کہ قوم محبت کی پیاسی ہے، جہاں کہیں اسے دو محبت کرنے والے مل جائیں ٹوٹ پڑتی ہے۔
کسی نے کہا کہ پتہ نہیں کیوں لوگ دیوانے بنے ہوئے ہیں، یار بلی اور بطخ کھیل رہے ہیں، اس میں کیا رومانویت ہے۔
 
یہ سب کچھ ایک طرف اور دوسرے شہروں سے لوگوں کا سفر کرکے الخبر کے کپل کو دیکھنے آنا ایک طرف۔
بات اتنی آگے تک پھیل گئی کہ ماہرین حیوان تک کو مداخلت کرنی پڑی اور ڈاکٹر عبد الرحمن الصلاد نے اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہوئے کہا کہ بلی طبعی طور پر پر امن جانور ہے اور انسانوں سمیت دوسرے جانوروں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں رہتی ہے۔
قصہ یہاں ختم نہیں ہوا۔
پھر نہ جانے کیا ہوا کہ بلی اور بطخ کا جھگڑا ہوگیا۔
ویڈیو بنانے والے اس موقع پر بھی حاضر تھے اور انہوں نے رومانوی قصے کا انجام دنیا کو دکھایا۔
بلی نے بطخ کو دو تین چمپےمارے، بطخ نے بلی کو چار پانچ چونچ رسید کئے۔
 
بطخ بھی زخمی، بلی بھی لہو لہان۔
لو جی رومانوی داستان ختم۔
خدا خدا کرکے الخبر کے کورنیش پر سکون ہوا اور جم غفیر چھٹ گیا۔

شیئر: