عمرہ و زیارہ فورم 2026 میں ماہرین کی بیٹھک، مصنوعی ذہانت ’اہم موضوع‘
مدینہ میں منعقدہ عمرہ و زیارہ فورم 2026 میں مصنوعی ذہانت ایک اہم موضوع رہا جس میں حکومت کے ادارے، نجی اور غیر منافع بخش شعبے، عمرہ آپریٹرز، سرمایہ کار، ڈویلپرز، ہاسپیٹلیٹی لیڈرز، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز شریک ہوئے تاکہ اس کے موجودہ اثرات اور چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
ورکشاپس میں کئی اہم موضوعات پر غور کیا گیا جن میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے زائرین اور مہمانوں کے تجربات کو بہتر بنانا، عمرہ و زیارہ کے نظام میں پائیداری اور ڈیجیٹل نظام اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے متعلق مقامات کو دستاویزی صورت میں شامل کرنا تھا۔
انڈسٹری کے ماہرین نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی ذہانت لاکھوں زائرین کے تجربے کو کس طرح بہتر بنا سکتی ہے۔
صفا سوفٹ نے (YUUSR.COM) پیش کیا جو ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی عمرہ بکنگ پلیٹ فارم ہے اور اس کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کا حصہ ہے، یہ عمرہ خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے نئے حل کی نمائندگی کرتا ہے۔
صفا سوفٹ کے سی ای او حسام الا سلی نے کہا کہ ان کی ویب سائٹ مسافروں کو آن لائن عمرہ پیکجز کی تلاش، موازنہ اور بک کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس میں قیمتوں کی مسابقت اور رسائی پر بھرپور توجہ دی گئی ہے۔
شرکا نے کہا کہ عمرہ کے شعبے میں عام طور پر بکنگ کے عمل اور قیمتوں کی واضح معلومات کی کمی رہی ہے۔
ڈیجیٹل سلوشنز کمپنی ’علم‘ نے ایسی مربوط ٹیکنالوجیز پیش کیں جو عمرہ کرنے والے اور زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

فورم کے دوران ’علم‘ نے مختلف مراحل میں زائرین کے سفر کے مختلف مراحل کے لیے ڈیجیٹل حل بھی پیش کیے۔
احمد الحایک، یونیورسٹی آف پرنس مقرن میں اے آئی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں، نے عمرہ کے زائرین کی ضروریات کے مطابق جدید ٹیکنالوجیز کے اثرات اور حج و عمرہ کے انتظام میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہاں مدینہ میں ہم مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے طویل مدتی حل تیار کر رہے ہیں جو عمرہ خدمات کو بہتر بنائیں، جن میں انسانی نقل و حرکت کا انتظام، بھِیڑ کا تجزیہ اور رش کی پیش گوئی، متعدد زبانوں میں رہنمائی، مسجد میں بھِیڑ کی معلومات، ٹرانسپورٹ میں قطار کی پیش گوئی، نماز کے اوقات اور حرکت کی منصوبہ بندی، بِھیڑ کم کرنے کے ذہین طریقے، اور زائرین کی ضروریات سے متلعق بڑے ڈیٹا کا استعمال شامل ہیں۔
الحایک نے کہا کہ وہ مدینہ جی پی ٹی پر کام کر رہے ہیں، یہ ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقی منصوبہ ہے جو شہر میں زائرین کے تجربے کو ذہنی اور روحانی طور پر بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
فورم، جو بدھ کو اختتام پذیر ہوا، نے اپنی حیثیت کو ایک نمایاں پلیٹ فارم کے طور پر مزید مضبوط کیا، اور اس میں 160 سے زائد ممالک سے شرکا اور 32 ہزار سے زیادہ وزیٹرز نے حصہ لیا۔

’عمرہ اور زیارہ فورم 2026 اعلیٰ درجے کا ایک عالمی پلیٹ فارم‘
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عمرہ اور زیارہ فورم 2026 اعلیٰ درجے کا ایک عالمی پلیٹ فارم ہے جہاں ماہرانہ رائے کا تبادلہ اور حکمتِ عملی کے لیے وژن کی تشکیل ہوتی ہے تاکہ عمرے کی ادائیگی کرنے والوں اور سیاحوں کے لیے خدمات کو بہترین بنایا جا سکے۔
اس سال فورم میں مکالمے کے سیشنز اور اِن ورکشاپس کی اہمیت پر زور دیا گیا جو جدت پسندی، سٹریٹیجک منصوبہ بندی اور سیاحوں کے تجربات کو بہتر بنانے کے گِرد گھومتی ہیں۔
فورم میں بحث کے لیے اِن موضوعات کا انتخاب اِس لیے کیا گیا کیونکہ یہ مملکت کی حکمتِ عملی کے اُن مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہیں جن کے تحت زائرین کو اُن کے شایانِ شان جامع خدمات فراہم کرنا ہے۔
عمرہ فورم میں 160 کے قریب سیشن منعقد ہوئے جن میں کاروباری رہنما، پالیسی ساز شخصیات، اور ماہرین کے علاوہ حکومتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور غیر نفع بخش تنظیمیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اِن ورکشاپس کے شرکا کو جدید آپریشنل ماڈلز کے بارے میں حقائق کو جانچنے کی فطری صلاحیت کا ادارک تھا۔
عمرہ اور زیارہ فورم اس بات کی دلیل ہے کہ مملکت اپنے اُس وعدے پر کاربند ہے جس کے تحت ایک جدید، کارکردگی بڑھانے اور زائرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے والے ایک پائیدار نظام کو قائم کرنا ہے۔
ایک شاندار رُوحانی اور سیاحتی تجربے کے لیے سعودی عرب کی دنیا کی بہترین عالمی سیاحتی منزل کی حیثیت کو مزید تقویت دینی ہے۔
