امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔
امریکی فورسز ایران میں جلد ہی ’کام مکمل‘ کرلیں گی، کیونکہ بنیادی سٹریٹجک مقاصد مکمل ہونے کے قریب ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں جنگ کا بھر پور دفاع کیا، تاہم انہوں نے زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ جنگ کے آغاز کے بعد حالیہ ہفتوں میں کر چکے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ امریکہ، ایران میں اپنے بڑے فوجی مقاصد اور دو تین ہفتوں میں کارروائیاں مکمل کرنے کے قریب ہے۔ امریکی فورسز ایران پر’ سخت حملے‘ جاری رکھیں گی۔‘
ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد اپنے پہلے قومی خطاب میں کہا’ ہم ایران کی امریکیوں کو دھمکانے یا اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت کو منظم طریقے سے ختم کر رہے ہیں۔‘
’ہم نے جو اقدامات کیے اس سے امریکہ اور دنیا کے لیے ایران کے مذموم خطرے کو ختم کرنے کے قریب ہیں۔‘
انہوں نے دعوی کیا کہ’ اگر انہوں نے ایران کا جوہری معاہدہ ختم نہ کیا ہوتا تو مشرق وسطی کا وجود نہ ہوتا۔‘
انہوں نے صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے کو ایک غلطی قرار دیا اور دعوی کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب تھا۔
انہوں نے تیل کی قلت کا سامنا کرنے والے ملکوں کو مشورہ دیا کہ وہ امریکہ سے تیل خریدیں یا ایران سے آبنائے ہرمز واپس لے لیں۔ امریکہ کو بیرون ملک سے تیل لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب سے قبل کہا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو توانائی کی ترسیل کے لیے دوبارہ نہیں کھولا جاتا، کسی بھی جنگ بندی پر غور نہیں کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی کو بتایا تھا کہ یہ دعویٰ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ہے۔