Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بجلی چوری، نصف خرابی محکمے کی غفلت کی وجہ سے ہے: وزیر توانائی

اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی آدھی خرابی بجلی کے محکمے کی غفلت کی وجہ سے ہے (فوٹو: پی آئی ڈی)
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کی بجلی چوری کی روک تھام میں معاونت پر مشکور ہیں، ملک میں کروڑوں روپے کے اضافی بل بھیجے جاتے ہیں اور اب یہ اوور بلنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ ہمارے اداروں کے اندر 20 فیصد سے زائد ایسے افراد ہیں جو اس کام میں ملوث ہیں۔ باقی 80 فیصد کو متاثر کرنا اور انہیں خود کو بچانے کے لیے استعمال کرنا ہمارا ادارہ برداشت نہیں کرسکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ 20 فیصد چوری کا فائدہ اٹھانے والے افراد، افسران، لائن مین، میٹر ریڈرز اور وہ صارفین جو چوری کر رہے ہیں، ان کا بوجھ یہ پاکستان نہیں اُٹھا سکتا۔
اویس لغاری نے کہا کہ ’اتنے سارے لوگ عوام کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ جو لوگ چوری کر رہے ہیں، ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی آدھی خرابی بجلی کے محکمے کی غفلت کی وجہ سے ہے۔
’ہمارا بڑا واضح موقف ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں بہتری آئے تو پاکستان بہتر طریقے سے چل سکے گا۔ معاشی حالات میں بہتری آئے گی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد مستفید ہوں گے۔ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔‘
اویس لغاری نے بتایا کہ ’وزیراعظم کے اصرار اور اُن کی ترجیح کی وجہ سے ہم نے چند ہفتے میں توانائی کے شعبے کی تمام کمزوریوں کا جائزہ لیا۔ اس سیکٹر میں جن اصلاحات کی ضرورت ہے ان کا ایک روڈ میپ تیار کیا ہے۔‘
وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذمے رواں سال جون تک سالانہ نقصان کا حجم 560 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

اویس لغاری نے بتایا کہ ’ہم نے ہر لائن مین کو23 اپریل تک رپورٹس جمع کرانے کا کہا تھا‘ (فوٹو: اے ایف پی)

’ڈسٹریبیوشن کمپنیاں 300 ارب روپے کا نقصان یونٹس کی مد میں کرتی ہیں، 200 ارب روپے کے بل وصول نہیں کیے جاتے۔ اب ہم نقصانات برداشت نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم چوری کرنے والے کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ بجلی کمپنیاں چوری میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کریں۔‘
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ہر لائن مین کو 23 اپریل تک رپورٹس جمع کرانے کا کہا تھا۔ کسی لائن مین کے ایریا میں خرابیاں ہوئیں تو لائن مین کی جاب جائے گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چوری کے خلاف مہم جاری رکھی جائے گی۔ چند دنوں میں ایک ہیلپ لائن بھی جاری کریں گے۔‘
اویس لغاری نے کہا کہ ’سولر یونٹ کی قیمت کی ریشنلائزیشن ضروری ہو گئی ہے۔ دیکھنا ہو گا کیوں غریب آدمی پر کپیسٹی کا بوجھ پڑے۔‘
انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے تک نئے بورڈز سے متعلق فیصلہ کابینہ سے ہو جائے گا۔ 

شیئر: