’یہ اعزاز ہے‘ سعودی عرب میں پریمیئر اقامہ ہولڈر پاکستانی ڈاکٹر سعد ہاشمی
’یہ اعزاز ہے‘ سعودی عرب میں پریمیئر اقامہ ہولڈر پاکستانی ڈاکٹر سعد ہاشمی
بدھ 12 فروری 2025 5:38
خالد خورشید -اردو نیوز، جدہ
پریمیئر ریذیڈینسی سے غیرملکیوں کے لیے اہم مواقع کھلے ہیں (فوٹو: اردونیوز)
جدہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرسعد منظور فضل ہاشمی ان غیرملکیوں میں شامل ہیں جنہیں منفرد صلاحیتوں کے باعث اقامہ ممیزہ ’پریمیئر ریذیڈینسی‘ دیا گیا ہے۔
منفرد اقامہ پروگرام کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا، بعدازاں 2024 میں مزید پانچ کیٹگریز متعارف کرائی گئیں جس کا مقصد مختلف شعبوں میں منفرد صلاحیتوں کے حامل افراد کو اقامہ ممیزہ جاری کرنا ہے۔
پریمیئر ریذیڈینسی سے غیرملکیوں کے لیے اہم مواقع کے راستے کھلے ہیں۔
ڈاکٹرسعد منظور فضل ہاشمی کراچی میں پیدا ہوئے،1961 میں چھوٹی عمر میں والدین کے ہمراہ سعودی عرب آئے۔
ابتدائی تعلیم پاکستان ایمبیسی سکول جدہ سے حاصل کی، مصر سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی، آئرلینڈ ٹبلن سے پیڈیاٹرک میں ڈپلومہ اور پھر فیلو شپ ( پی ایچ ڈی) شام سے کی۔
1985 سے سعودی وزارت صحت میں بطور کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک اور آنکولوجی سپیشلسٹ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سعودی پیڈیاٹرک سوسائٹی اور سعودی بلڈ ڈیزیز سوسائٹی کے ركن ہیں۔
مختلف وزارتوں اور اداروں سے تعریفی سرٹیفکیٹ اور سابق وزیر داخلہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز سے حج میڈل حاصل کرچکے ہیں۔
وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا اور کامیابی کی منزل حاصل کی۔
اردونیوز سے گفتگو میں انہوں نے اقامہ ممیزه کے حصول کو اپنے لیے ایک اعزاز قرار دیا۔
سعودی عرب کی ترقی اور تعمیر میں پاکستانی کمیونٹی کا اہم کردار رہا ہے (فوٹو: اردونیوز)
اس سوال پر کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی کی کنجی کیا ہے، ان کا کہنا تھا’ ہارڈ ورک اور سمارٹ ورک سے آپ اپنے مقاصد کے قریب پہنچتے ہیں، جبکہ قسمت مواقع آپ کے سامنے لاتی ہے۔ محنت اور لگن کے ساتھ حکمت عملی اور منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔‘
’سمارٹ ورک سے مراد اپنے وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا، درست فیصلے کرنا، اور مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے تاہم کچھ عوامل ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں، قسمت کا بھی کردار ہوتا ہے۔ ‘
انہوں نے سعودی عرب کو سرمایہ کاری اور رہائش کے حوالے سے محفوظ ملک قرار دیا اور کہا’ استحکام، مضبوط معیشت، اور بہتر انفراسٹرکچرکے باعث یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور رہائشیوں کے لیے پرکشش ہے۔‘
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا’ سعودی معاشرے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مختلف ثقافتی، سماجی، اور مذہبی اقدار کے باوجود لوگ مل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ معاشرے کی مضبوطی اور ترقی کے لیے باہمی تعاون، برداشت، اور احترام اہم ہیں۔‘
مختلف وزارتوں اور اداروں سے تعریفی سرٹیفکیٹ حاصل کرچکے ہیں (فوٹو: اردونیوز)
ڈاکٹرسعد ہاشمی کے مطابق ’سعودی عرب کی ترقی اور تعمیر میں پاکستانی کمیونٹی کا اہم کردار رہا ہے۔ پاکستانی لیبر، انجینئرز، ڈاکٹرز، اور دیگر پروفیشنلز مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔‘
’ صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی محنت اور مہارت نے سعودی معیشت اور معاشرے کو مضبوط بنانے میں مدد دی ہے۔‘
ایک سوال پر انہوں نے کہا’ وژن 2030 اہم اور دوررس منصوبہ ہے جو مملکت کو معاشی، سماجی اور ثقافتی طور پر ترقی دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس وژن کے تحت سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر انحصار کم کرنے اور مختلف شعبوں میں تنوع لانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘