حج کا خواب پورا ہونا مشکل تھا لیکن اللہ نے فریضۂ حج کے لیے چُن لیا، مراکشی عازم حج
عائشہ الظہیر کہتی ہیں کہ ’میں حج کے خواب کے پورے ہونے کو مشکل سمجھتی تھی۔‘ (فوٹو: ایس پی اے)
مراکش سے تعلق رکھنے والی 84 برس کی عائشہ الظہیر جو پانچ بچوں کی ماں ہیں، وہ رباط سلا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روٹ ٹو مکہ انیشیٹیو کے تحت مختص ہال میں مسجد الحرام جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس سفر کے لیے انہوں نے کئی برسوں تک انتظار کیا، یہ انتظار صبر اور اللہ تعالیٰ سے کی گئی دعاؤں سے لبریز تھا تاکہ وہ آسانی پیدا کرے اور دعا قبول کرے۔
ڈھلتی عمر کی وجہ سے چہرے پر معصومیت کے نشانات لیے انہوں نے خوشی اور شکر کے جذبات کا اظہار کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ایئرپورٹ پہنچتے ہی جس طرح کے آسان طریقہ کار کا انہوں نے تجربہ کیا، اس چیز سے وہ بہت سکون میں ہیں اور اس نے سفر کی تھکاوٹ کا احساس ختم کر دیا ہے اور وہ اب اپنا برسوں پرانا خواب سچ ہوتا دیکھ رہی ہیں۔
عائشہ الظہیر کہتی ہیں کہ ’میں حج کے خواب کے پورے ہونے کو مشکل سمجھتی تھی۔ مجھے حرمین شریفین جانے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ میں اس سال حج کے لیے جاؤں گی تو مجھے اللہ پر کامل یقین ہو گیا کہ اُس نے مجھے اپنے فضل و کرم سے یہ فریضہ انجام دینے کے لیے چُن لیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے اپنے ساتھ اس سفر کے لیے اپنی بہن الزہرہ کا انتخاب کیا تاکہ اس سفر میں وہ میرے ساتھ رہیں اور میری مدد کریں۔ وہ مجھ سے 10 سال چھوٹی ہیں۔ ہم دونوں مل کر عبادت کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ اللہ ہماری عبادات کو قبول کرے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میری بہن نے مجھے روٹ ٹو مکہ انیشیٹیو کے بارے میں بتایا اور آج میں عازمین کے لیے سہولیات اور آسانی کی فراہمی کو دیکھ رہی ہوں۔‘

روٹ ٹو مکہ انیشیٹیو مستفید ہونے والے ممالک سے سعودی عرب آنے والے عازمین حج کو اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرتا ہے جس میں اُن کا استقبال کرنا اور اُن کے اپنے ہی ملکوں میں تمام مراحل کو آسانی اور سہولت سے پورا کرنا شامل ہے۔
اس کا آغاز حج ویزا الیکٹرونکلی دینے اور بائیومیٹرک ڈیٹا لینے سے ہوتا ہے جس کے بعد جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس صحت کی رپورٹ کی تصدیق کرنے کے بعد روانگی کے ایئرپورٹ پر ہی مملکت میں داخلے کی تمام کارروائیاں مکمل کر لیتا ہے۔
اس میں ٹرانسپورٹ کے مطابق سامان پر ٹیگ لگانا اور اسے سنبھالنا اور پھر مملکت میں رہائش کے انتظامات کرنا ہے۔

عازمین حج ایئرپورٹ سے سامان لیے بغیر بسوں میں بیٹھ کر مکہ اور مدینہ میں اپنی اپنی رہائش گاہوں پر چلے جاتے ہیں جبکہ شریک ادارے اُن کی رہائش پر ہی اُن کے سامان کو پہنچا دیتے ہیں۔
