ذائقے میں بے مثال: ’سرخ امرود‘ نجران کی زرعی پیداوار کی شناخت
سرخ امرود کے درختوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
نجران ریجن میں پھلوں کی کاشت غذائی تحفظ اور زرعی تنوع کا ایک اہم ستون ہے جس کی بڑی وجہ زرخیز مٹی، معتدل آب و ہوا اور وافر آبی وسائل ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ علاقہ مختلف اقسام کے پھلوں کے لیے مشہور ہے جن میں ’سرخ امرود‘ سرفہرست ہے جو علاقے کے کاشتکاروں میں ایک امید افزا زرعی سرمایہ کاری کے طور پر ابھرا ہے۔
نجران ریجن میں اس وقت ’سرخ امرود‘ کے درختوں کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کے ریجنل ڈائریکٹر انجینیئر مریح بن شارع الشھرانی کا کہنا ہے کہ ’نجران ریجن ایک معیاری زرعی تبدیلی کے حوالے سے مثالی خطہ بن چکا ہے۔ یہاں کاشت کیا جانے والا سرخ امرود ریجن کی زرعی پیداوار کی شناخت بن گیا ہے۔‘
کاشتکار زرخیز مٹی اور موسمی حالات سے فائدہ اٹھا کر اعلٰی معیار اور غذائیت سے بھر پور پھلوں کی پیداوار کر رہے ہیں۔ کاشتکاروں کو تیکنیکی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ کو ششیں غذائی تحفظ اور خود کفالت کے حوالے سے مملکت کے وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
ماہر زراعت و کاشتکار سداح آل حیدر نے کہا کہ ’نجران میں سرخ امرود، ذائقے میں بے مثال ہے۔ کھلتا ہوا سرخ رنگ اسے مزید دلکش بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔‘

ایک اور کاشتکار علی آل قریش نے بتایا کہ نجران ریجن میں امرود کی فصل جنوری اور فروری میں ہوتی ہے۔ درختوں پر پھول کھلنے کے چار سے پانچ ماہ بعد وہ پھل سے لد جاتے ہیں۔
اگر بہترین طریقے سے درخت میں قلم لگائی جائے اور مناسب فاصلے سے درختوں کو اگایا جائے تو اچھی فصل حاصل کی جا سکتی ہے جو ایک درخت سے 150 کلو گرام تک ہوتی ہے۔
