Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خواتین کو نشانہ بنانے والے گینگ کی سرغنہ گرفتار، ’چوری کے واقعات پھر بھی جاری‘

پشاور کے تھانہ غربی نے خواتین چوروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا۔ فائل فوٹو: پشاور پولیس
پشاور کے مصروف ترین بازاروں اور شاپنگ مالز میں خواتین سے چوری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
چوروں کے گروہ کی جانب سے خریدار خواتین کو شکار بنا کر ان سے ان کے سونے کے زیورات اور قیمتی اشیا چوری کی جاتی ہیں۔ پشاور پولیس کی جانب سے اس نوعیت کی وارداتوں میں ملوث گینگ کی سرغنہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تھانہ غربی پولیس سٹیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق منظم گروہ کی سرغنہ خاتون کو حراست میں لیا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران ملزمہ سے 20 تولے سونا بھی برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کا تعلق چوروں کے منظم گروہ سے ہے جو بازاروں میں شاپنگ کے دوران خواتین سے زیورات چوری کرتی ہیں۔ 
ایس ایچ او تھانہ غربی نورمحمد خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’کچھ روز قبل حیات آباد کی خاتون نے چوری کی رپورٹ درج کرائی تھی جس پر پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کی روشنی میں ملزمہ تک رسائی حاصل کر لی۔‘
ایس ایچ او نور محمد خان کا کہنا ہے کہ ’خاتون سرغنہ سے چوری ہونے والا سونا برآمد کر لیا گیا ہے۔ ملزمہ نے متعدد دیگر وارداتوں کا اعتراف بھی کر لیا ہے جن کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔‘ 
خاتون کی مزید ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔ 

طریقۂ واردات 

تھانہ صدر کے ایس ایچ او نور محمد خان نے بتایا کہ ’شاپنگ کے دوران چوروں کا گینگ کسی ایک خاتون کو ٹارگٹ بنا لیتا اور پھر خریداری کے بہانے خاتون خریدار کو باتوں میں الجھا کر اس کا دھیان ہٹاتا اور اس دوران خاتون کے پرس سے سامان یا سونا نکال لیا جاتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین گینگ انتہائی مہارت سے چوری کرتی ہیں، اکثر خواتین خریدار سے قیمتی سامان اور موبائل بھی چرا لیتی ہیں۔‘ 

خواتین پر مشتمل گینگ سے شہری پریشان

بازاروں کے علاوہ بی آرٹی بسوں میں بھی جیب کترنے کے بڑھتے واقعات سے خواتین پریشان ہیں۔

پشاور کے مصروف بازاروں میں خواتین چوروں کے گینگ سے شہری پریشان ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

بسوں میں چوری کی روک تھام کے لیے ٹرانس پشاور انتظامیہ نے کئی تجربات کیے مگر ان واقعات میں کمی نہ آ سکی۔
پشاور کی رہائشی عائشہ جہاں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پولیس کی جانب سے خواتین گینگ کو گرفتار کرنے کے دعوے کیے گئے تھے مگر چوری کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’خواتین سے موبائل، نقدی اور زیورات بھی چوری ہوئے مگر آج تک کوئی ریکوری نہیں کی جا سکی۔‘ 
بی آر ٹی انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ بس کے اندر خواتین کے پرس چوری کرنے والی پانچ خواتین کو چوری کے الزام میں گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ 
ان کا مزید کہنا ہے کہ مسافروں کی جانب سے چوری کی شکایات پر کیمروں کی مدد سے چور کی نشاندہی کی جاتی ہے جبکہ خواتین چوروں سے ہوشیار رہنے کے لیے بار بار اعلانات بھی کیے جاتے ہیں۔

 

شیئر: