لائیو: دریائے ستلج، راوی اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری
اہم نکات:
-
ہیڈ بلوکی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن
-
دریائے ستلج، راوی اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ
-
سندھ میں ممکنہ سیلاب سے 16 لاکھ 50 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم 100 فیصد اور منگلا ڈیم 82 فیصد بھر چکا ہے۔
تربیلا ڈیم کا لیول 1550.00 فٹ، منگلا ڈیم 1224.85 فٹ، خانپور ڈیم 1980.75 فٹ، راول ڈیم 1751.10 فٹ اور سملی ڈیم کی سطح 2315.20 فٹ ہے۔
ہیڈ بلوکی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
ہیڈ خانکی، قادر آباد، چنیوٹ برج اور سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
تریموں، جسڑ،راوی سائفن اور شاہدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے ستلج، راوی اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
پنجاب گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہے گی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دو سے تین ستمبر کے دوران دریاؤں کے بالائی حصوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔
سندھ میں ممکنہ سیلاب سے 16 لاکھ 50 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
صوبہ سندھ میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکمے اور حکام تیاری کر رہے ہیں۔
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکومت پوری طرح متحرک ہے اور تمام ادارے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر دو لاکھ 73 ہزار خاندانوں کے 16 لاکھ 50 ہزار افراد، 1651 دیہات اور 167 یونین کونسلز کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سینچر کی دوپہر سندھ کے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے صوبائی فلڈ کنٹرول روم کا دورہ کیا۔
چیف سیکریٹری سندھ کو سیلابی صورتحال پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ گدو بیراج سے سیلابی ریلہ 3 ستمبر کو گزرے گا۔ اور اس وقت گڈو بیراج اپ اسٹریم میں تین لاکھ 89 ہزار اور ڈاؤن سٹریم میں تین لاکھ 56 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ہے۔