چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے ایک باسی نے پرانی سم کارڈز اور دیگر الیکٹرانک آلات سے لاکھوں کا سونا نکالنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق شہر ہویژو میں رہنے والا یہ شخص سوشل میڈیا پر ’چیاؤ‘ کے نام سے کافی شہرت رکھتا ہے اور اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے الیکٹرانک کچرے سے 191 گرام سونا نکالا ہے جس کی مالیت تقریباً دو لاکھ یوان (یعنی تقریباً 30 ہزار امریکی ڈالر یا 80 لاکھ پاکستانی روپے) کے برابر بنتی ہے۔
مزید پڑھیں
-
کچرے میں رہنے والا دنیا کا سب سے مہنگا کیڑا، قیمت لاکھوں میںNode ID: 871351
-
’ماں کے جوتے پرانے ہو گئے‘، چینی بچے کے خلوص کی انوکھی کہانیNode ID: 899901
چیاؤ قیمتی دھاتوں کے الیکٹرانک سکریپ کو ریفائن کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی ویڈیو کو اب تک 50 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ اس ویڈیو میں مختلف کیمیائی مراحل کے ذریعے سونا نکالنے کا عمل دکھایا گیا ہے۔

چیاؤ کے مطابق یہ سونا صرف سم کارڈز سے نہیں بلکہ تقریباً دو ٹن الیکٹرانک فضلے کی پروسیسنگ سے حاصل کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق سم کارڈز اور دیگر الیکٹرانک چپس میں سونے کی نہایت باریک تہہ کنڈکٹیویٹی اور زنگ سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تاہم ایک عام سم کارڈ میں سونے کی مقدار 0.001 گرام سے بھی کم ہوتی ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چین کے سیکنڈ ہینڈ پلیٹ فارمز پر پرانے سم کارڈز کی مانگ بڑھ گئی۔ بعض فروخت کنندگان نے انہیں ’کیمیاگری‘ کے لیے موزوں قرار دیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے چیاؤ کو ’الکیمسٹ‘ کا لقب دیا۔













