Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ناکارہ سِموں سے لاکھوں کا سونا نکالنے والا چینی شہری، حقیقت کیا؟

چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے ایک باسی نے پرانی سم کارڈز اور دیگر الیکٹرانک آلات سے لاکھوں کا سونا نکالنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق شہر ہویژو میں رہنے والا یہ شخص سوشل میڈیا پر ’چیاؤ‘ کے نام سے کافی شہرت رکھتا ہے اور اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے الیکٹرانک کچرے سے 191 گرام سونا نکالا ہے جس کی مالیت تقریباً دو لاکھ یوان (یعنی تقریباً 30 ہزار امریکی ڈالر یا 80 لاکھ پاکستانی روپے) کے برابر بنتی ہے۔
چیاؤ قیمتی دھاتوں کے الیکٹرانک سکریپ کو ریفائن کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی ویڈیو کو اب تک 50 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ اس ویڈیو میں مختلف کیمیائی مراحل کے ذریعے سونا نکالنے کا عمل دکھایا گیا ہے۔
Part of the process involves heating the extracted gold up to an extreme temperature. Photo: Weibo
اس عمل کے ایک مرحلے میں نکالا گیا سونا انتہائی زیادہ درجۂ حرارت تک گرم کیا جاتا ہے۔ تصویر: ویبو

چیاؤ کے مطابق یہ سونا صرف سم کارڈز سے نہیں بلکہ تقریباً دو ٹن الیکٹرانک فضلے کی پروسیسنگ سے حاصل کیا گیا۔ 
ماہرین کے مطابق سم کارڈز اور دیگر الیکٹرانک چپس میں سونے کی نہایت باریک تہہ کنڈکٹیویٹی اور زنگ سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تاہم ایک عام سم کارڈ میں سونے کی مقدار 0.001 گرام سے بھی کم ہوتی ہے۔
Scrap SIM cards, above, play a central role in the gold extraction process. Photo: Weibo
 ضائع شدہ سم کارڈز سونا نکالنے کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ تصویر: ویبو

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چین کے سیکنڈ ہینڈ پلیٹ فارمز پر پرانے سم کارڈز کی مانگ بڑھ گئی۔ بعض فروخت کنندگان نے انہیں ’کیمیاگری‘ کے لیے موزوں قرار دیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے چیاؤ کو ’الکیمسٹ‘ کا لقب دیا۔
Chemicals and soaking form a part of transforming the “waste” into gold. Photo: Weibo
کیمیکل مواد اور بھگونے کا عمل اس فضلے کو سونے میں تبدیل کرنے کے عمل کا حصہ ہیں۔ تصویر: ویبو

ایک صارف نے لکھا، ’جب میں انٹرنیٹ کیفے چلاتا تھا تو کمپیوٹر چِپس ضائع کر دیتا تھا، اب افسوس ہوتا ہے کہ اتنا سونا ہاتھ سے نکل گیا۔‘
ایک اور صارف کے مطابق، ’یہ کام پیشہ ورانہ مہارت مانگتا ہے، عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔‘
تاہم چیاؤ اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سونا نکالنے کا یہ عمل انتہائی خطرناک اور بعض صورتوں میں غیر قانونی بھی ہو سکتا ہے۔ 
چیاؤ نے واضح کیا کہ ویڈیو کا مقصد صرف الیکٹرانک کچرے کی ری سائیکلنگ کی اہمیت اجاگر کرنا تھا اور اس کا مقصد لوگوں کو اس عمل کی ترغیب دینا نہیں۔

شیئر: