قصور کی 30 سالہ شمع بی بی کو چند ماہ کے دوران دوسری بار اپنے گھر کو چھوڑنا پڑا ہے۔ پہلے مئی میں انڈیا سے جنگ اور اب پڑوسی ملک سے آںے والے سیلابی پانی نے اُن کو دربدر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کے ساتھ سرحد پر پنجاب میں پاکستانی علاقے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں جب انڈین سرحد سے سیلابی پانی قصور کے دیہات میں پہنچا تو شمع بی بی کو معلوم تھا کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔ شمع بی بی نے اپنے چار بچوں کو لیا اور محفوظ مقام کی طرف نکل پڑیں۔
مزید پڑھیں
رواں برس جب دوسری بار جب گھر کو چھوڑا تو شمع بی بی نے سوال کیا کہ ’ہمیں کتنی بار اپنے علاقے سے نکلتے رہنا پڑے گا۔‘
اُن کے شوہر پہلے ہی اپنی 10 گائے لے کر کشتی میں اونچے مقام کی طرف نکل گئے تھے۔
شمع بی بی نے کہا کہ ’ہم پہلے ہی جنگ کی وجہ سے کافی کچھ کھو چکے ہیں جیسا کہ بچوں کے سکول کے دن، اور اب یہ پانی ہمیں دھکیل رہا ہے۔ مصیبت ہی مصیبت ہے۔‘
قصور کے سرحدی دیہات کے ہزاروں رہائشی شمع کی طرح آزمائش سے دوچار ہیں۔ اور سیلاب زدہ قصور میں اُن کی افسردہ باتیں گونجتی ہیں۔ علاقے میں کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ چند ماہ کے دوران بار بار نقل مکانی سے تھک چکے ہیں، پہلے لڑائی نے نکالا اور اب قدرتی آفت آ گئی ہے۔
اپنے سات رشتہ داروں کے ہمراہ تین بیڈروم کے گھر میں رہائش پذیر 27 سالہ زبیدہ خاتون نے کہا کہ سیلاب اسی مہینے میں شروع ہوا تھا اور اب صورتحال مزید بدتر ہو گئی ہے۔ اُن کے گھر کے سامنے مسجد ہے جس کے لاؤڈ سپیکر سے مسلسل علاقہ خالی کرنے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔
جن لاؤڈ سپیکروں سے اذان کی آواز آتی تھی اب لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ کشتیاں آ گئی ہیں وہ خود کو بچانے کے لیے تیاری کریں۔
زبیدہ خاتون نے کہا کہ ’جب آپ یہاں رہتے ہیں، تو آپ جنگ کے خطرے اور سیلاب کے خطرے کے ساتھ رہنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ کوئی کہاں جائے؟‘

قصور انڈیا کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اپنی چھتوں پر بیٹھے بعض رہائشیوں نے کہا کہ وہ افق کے پار انڈیا کی چیک پوسٹیں دیکھ سکتے ہیں، جو اس بات کی یاددہانی کراتی ہیں کہ ان کی قسمت کا دوسری طرف سے کیے گئے فیصلوں سے کتنی گہرا تعلق ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ دہائیوں قبل کیا گیا تھا۔
علاقے میں کھیت اب ندیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں ریسکیو ورکرز لکڑی کی تنگ کشتیوں پر مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اُن کی موٹرسائیکلوں اور جانوروں کے ساتھ بٹھاتے ہوئے مشکل سے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خاندانوں نے اپنے بچوں کے ساتھ موٹرسائیکلوں، سامان اور بلینگ بکریوں کو متوازن کیا، کیونکہ ریسکیو ورکرز انہیں کھیتوں میں لے جاتے تھے اب ندیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ریسکیو ورکر محمد ارسلان نے بتایا کہ بہت سے دیہاتی اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکلنے سے ہچکچاتے ہیں۔
ارسلان کا کہنا تھا کہ ’لوگ اس لیے جانا نہیں چاہتے کیونکہ وہ چوروں سے ڈرتے ہیں کہ اُن کی غیرموجودگی میں پیچھے گھروں سے سامان چوری کر لیا جائے گا کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔‘
ریسکیو ورکر محمد ارسلان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے 1,500 سے زیادہ افراد کو کشتی کے ذریعے محفوظ مقام پر پہنچایا ہے۔
’یہ لوگ اپنی بکریوں اور بھیڑوں سے پیار کرتے ہیں، اور بعض اوقات ان کے بغیر جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘
پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں انڈین بیراج میں شگاف پڑنے کے بعد بہاؤ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تھا۔ اب تک کم از کم 28 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، اور پانی پنجاب میں مزید جنوب کی طرف بڑھ رہا ہے اور نئے علاقوں کو خطرہ ہے۔