Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’تعلقات کا فطری تسلسل‘: پاکستانی سفیر کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے مملکت کے ساتھ پاکستان کے قریبی سکیورٹی تعلقات کی ستائش کی ہے۔
سعودی عرب پاکستان کے درمیان دفاع کا معاہدہ پچھلے مہینے ریاض میں اس وقت ہوا تھا جب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔
پاکستان کے سفیر نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’سعودی عرب اور پاکستان دیرینہ اور تاریخی بردارانہ تعلقات رکھتے ہیں، جن کی جڑیں ہمارے مشترکہ عقیدے، ثقافت اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے روابط میں ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’باہمی دفاع کے معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے درمیان برسہا برس سے چلے آ رہے ہیں جو فطری بندھن کا تسلسل ہے اور یہ سلامتی کی مضبوطی، خطے کے اندر اور اس سے باہر امن کو فروغ دینے اور قریبی دفاعی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا عکاس ہے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے مشترکہ طور پر ہماری وہ صلاحیت مضبوط ہوئی ہے جو کسی جارحیت روکنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔‘
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خود مختاری کے دفاع کا عزم ظاہر کیا اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ’ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
احمد فاروق کا مزید کہنا تھا کہ ’باہمی دفاعی معاہدے سے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں سے چلی آنے والی دفاعی شراکت داری مضبوط ہوئی ہے اور اس سے علاقائی امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے ضمن میں بھی مدد ملے گی۔‘
اس معاہدے کی بنیاد بھائی چارے اور مذہبی یکجہتی کے ساتھ ساتھ مشترکہ سٹریٹیجک مفاد اور قریبی دفاعی تعاون پر ہے۔
متذکرہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ریاض کی اہم عمارت کنگڈم ٹاور پر سعوی عرب اور پاکستان کے جھنڈوں سے چراغاں کیا گیا۔

سعودی عرب میں پاکستان کے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال ہوا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

جب احمد فاروق سے پوچھا گیا کہ اس معاہدے کا دونوں ممالک کی معاشی ترقی پر کتنا اثر پڑ سکتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ معاشی تعاون مثبت راستے پر آگے بڑھ رہا ہے، دونوں ممالک بھائی چارے اور تعاون کی ایک طویل اور ممتاز تاریخ رکھتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دو طرفہ تعلقات کثیرجہتی، بے مثال اور پائیدار ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت ان کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتی ہے، یہ تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں بھی موجود ہیں۔‘
ان کے مطابق ’دفاعی تعاون میں مثبت پیشرفت دہائیوں پرانی دفاعی شراکت داری کا تسلسل ہے۔‘
1947 میں دونوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والے تعلقات بعدازاں سفارتی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں ایک جامع شراکت داری کی شکل میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

شیئر: