Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’حساس مواد کا تحفظ‘، صحافیوں کے وائٹ ہاؤس کے پریس آفس تک بلااجازت داخلے پر پابندی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے صحافیوں پر وائٹ ہاؤس کے پریس آفس تک اپائنٹمنٹ کے بغیر رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اب صحافیوں کو پیشگی اجازت کے بغیر پریس آفس کے مرکزی حصے جسے ’اپر پریس‘ کہا جاتا ہے اور جہاں پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا دفتر واقع ہے، میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس پابندی کی وجہ ’حساس مواد کے تحفظ‘ کی ضرورت بتائی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’صحافی کابینہ کے ارکان کو اچانک گھیر لیتے تھے اور خفیہ طور پر ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کر رہے تھے۔‘
سٹیون چیونگ نے بعد میں ایکس پر کہا کہ ’کچھ صحافی بلا اجازت ہمارے دفاتر کی خفیہ ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کرتے اور حساس معلومات کی تصاویر لیتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کابینہ کے سیکریٹری اکثر ہمارے دفتر میں نجی ملاقاتوں کے لیے آتے ہیں، لیکن باہر صحافی ان کا انتظار کرتے ہیں اور انہیں گھیر لیتے ہیں۔‘

میمو کے مطابق میڈیا اب بھی ’لوئر پریس‘ کے حصے تک رسائی رکھتا ہے جو وائٹ ہاؤس بریفنگ روم کے ساتھ واقع ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سٹیون چیونگ نے صحافیوں پر ’بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی نجی ملاقاتوں کی جاسوسی‘ کا بھی الزام لگایا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر نے اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔
وائٹ ہاؤس نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک میمو میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ہدایت نامہ پریس ہولڈرز کو بغیر اپائنٹمنٹ اپر پریس جو اوول آفس کے قریب واقع ہے، تک رسائی سے روکنا ہے۔
میمو جو پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ اور کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ کو بھیجا گیا ہے، میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ’اپر پریس میں حساس مواد کو بلااجازت افشا ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔‘
یہ پالیسی اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ صحافیوں پر مزید پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ ان میں پینٹاگون کے نئے ضوابط بھی شامل ہیں جن پر اے ایف پی سمیت بڑے اداروں نے رواں ماہ کے آغاز میں دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سٹیون چیونگ نے صحافیوں پر ’بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی نجی ملاقاتوں کی جاسوسی‘ کا بھی الزام لگایا (فوٹو: اے ایف پی)

اب تک وائٹ ہاؤس کے رپورٹرز اس علاقے میں آزادانہ طور پر جا سکتے تھے اور اکثر اوقات پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ یا سینیئر پریس افسران سے بات کرنے، معلومات حاصل کرنے یا خبروں کی تصدیق کے لیے وہاں جاتے تھے۔
میمو کے مطابق میڈیا اب بھی ’لوئر پریس‘ کے حصے تک رسائی رکھتا ہے جو وائٹ ہاؤس بریفنگ روم کے ساتھ واقع ہے اور جہاں نسبتاً جونیئر پریس افسران کام کرتے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ نے بھی اپر پریس تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

شیئر: