سعودی شہر درعیہ کے گورنر شہزادہ فہد بن سعد بن عبداللہ بن ترکی آل سعود کی سرپرستی میں درعیہ گیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے درعیہ سیزن کی افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا۔
مزید پڑھیں
-
ریاض میں ’مارولز آف سعودی آرکسٹرا‘ کی واپسیNode ID: 896542
-
العلا عالمی ذائقوں کا مرکز، میچلن گائیڈ میں متعدد ریستوران شاملNode ID: 896572
سبق ویب سائٹ کے مطابق افتتاحی تقریب میں اعلیٰ حکام اور مقامی و بین الاقوامی ثقافتی شخصیات کی نمایاں شرکت رہی ہے۔
تقریب میں ’العوجا‘ کے عنوان کی علامتی روح کو اجاگر کیا ہے جو درعیہ کی پہچان سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
فنّی اور بصری مظاہروں کے ذریعے درعیہ کی قدیم تاریخ کو زندہ کیا گیا ہے جو وادی صفار کی دلکش فطری خوبصورتی، اس کی منفرد چٹانی ساخت اور اس کے تاریخی مقام کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔
یہ وادی صدیوں سے پہلی سعودی ریاست کے دور میں ایک فعال مرکز اور نجدی ورثے کا منبع رہی ہے۔
تقریب میں ’راوی الدرعیہ‘ پروگرام کے دو نوجوان فاتحین تمیم الحارثی اور بدر الحربی نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے تخلیقی مظاہرہ پیش کیا جو سعودی عوام کے درعیہ کے ساتھ تاریخی تعلق اور اس پر فخر کو ظاہر کرتا ہے۔
تقریب میں ’أنا العوجا‘ کے عنوان سے ایک فنّی شو بھی پیش کیا گیا جس نے وادی حنیفہ کی کہانی کو ’العوجا‘ کی آواز میں بیان کیا۔
اس کے بعد تھیٹر اور موسیقی شو پیش کیا گیا جس میں قومی نغمات اور روایتی فنون کو پیش کیا گیا۔
’العوجا‘ کا لفظ اپنی معنوی جڑیں درعیہ کے محلوں کی ساخت سے لیتا ہے جو وادی حنیفہ کے خم پر آباد تھے۔
یہ نام بعد میں سعودی شاہی خاندان کے لیے باعث فخر و عزت بن گیا۔
یہ ایک ایسا لفظ ہے جو درعیہ اور پہلی سعودی ریاست کی اصل روح کی نمائندگی کرتا ہے اور جس میں فخر، بہادری، سخاوت اور قومی وابستگی کے معانی پنہاں ہیں۔
تقریب کا اختتام فنِ سامری کے مظاہرے سے ہوا جو سعودی ثقافتی شناخت سے جڑا ایک معروف عوامی فن ہے۔
اس دوران فنکاروں نے روایتی نجدی دھنوں پر دلکش نغمے پیش کیے۔
درعیہ سیزن میں 10 سے زیادہ متنوع پروگرام شامل ہیں جو ثقافتی، تاریخی اور سیاحتی سرگرمیوں کو یکجا کرتے ہیں تاکہ درعیہ کی پہنچان، ثقافتی میراث اور اس کے عالمی مقام کو اجاگر کیا جا سکے۔
یہ موسم ایک جامع ثقافتی و سیاحتی تجربہ فراہم کرتا ہے جو متعدد تاریخی اور فطری مقامات پر پھیلا ہوا ہے۔
![]()













