Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لائیو: سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور

اہم نکات
  • سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور
  • موجودہ چیف جسٹس کی سینیارٹی برقرار رہے گی: اسحاق ڈار
  • صدر آصف علی زرداری کو استثنیٰ نہیں لینا چاہیے تھا: رانا تنویر
  • تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں آئینی ترمیم کے لیے ووٹنگ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کیا۔
اس کے بعد 27 ویں آئینی ترمیمی بل پر شق وار ووٹنگ ہوئی۔ اپوزیشن نے 27 ویں ترمیمی بل کے خلاف شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
 

سینیٹ کا اجلاس وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گیا ہوا۔ اجلاس میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے 27ویں آئینی ترمیم کی رپورٹ پیش کی۔ 
ایوان میں رپورٹ پر بات کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ  مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے غور و خوض کے بعد 27ویں آئینی ترمیم میں بہت ساری تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔
فاروق ایچ نائیک کے مطابق  کمیٹی نے تجویز دی کہ ہائی کورٹ کے جج کو 7 سے 5 سال کی مدت ملازمت رکھنے والے جج کو آئینی عدالت کا جج لگایا جائے گا جبکہ ازخود نوٹس لینے کے اختیار کو رکھا گیا ہے تاہم اس  اس وقت ہوگا جب کوئی درخواست دے گا۔

موجودہ چیف جسٹس کی سینیارٹی برقرار رہے گی: اسحاق ڈار

وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں موجودہ چیف جسٹس کی سینیارٹی برقرار رہے گی۔
پیر کو ترمیم منظور ہونے کے بعد انہوں سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کے کئی ممالک میں آئینی عدالت موجود ہے اور الگ آئینی عدالت کے قیام سے سائلین کی بہتر انداز میں داررسی ہو سکے گی۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام شامل تھا۔ اور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔

صدر آصف علی زرداری کو استثنیٰ نہیں لینا چاہیے تھا: رانا تنویر

وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں صدر آصف علی زرداری کو استثنیٰ نہیں لینا چاہیے تھا۔
پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم گورننس کو بہتر کرے گی۔
ان کے مطابق ترمیم سے فائدہ صرف فیلڈ مارشل کو ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ووٹ کی ضرورت پڑی تو میاں نواز شریف آئیں گئے،  نواز شریف ہمارے قائد ہیں وہ کہیں گئے تو حکومت چھوڑ دیں گے۔

اپوزیشن جماعتوں کے  اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ  کوئی رکن 27ویں آئینی ترمیم کے لیے ہونے والی کسی بھی قسم کی رائے شماری یا ووٹنگ میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ ان کا موقف ہے کہ اس طرح کے غیر آئینی عمل میں حصہ لینا، درحقیقت آئین کی بالادستی کے اصولوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی ڈیڈلاک نہیں، ہمارے ووٹ پورے ہیں: عطااللہ تارڑ

 
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ 27ویں آئینی ترمیم پر کوئی ڈیڈلاک نہیں، اس پر سینیٹ میں باقاعدہ بحث ہوگی۔
پیر کو سینیٹ کے احاطے میں میڈیا کی جانب سے عطااللہ تارڑ سے سوال ہوا کہ کیا سینیٹ سے ترامیم پاس ہو جائیں گی؟ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو کوئی شک ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ترامیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس ووٹ پورے ہیں۔ ’اس پر کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے اور یہ ایک مثبت آئینی ترمیم ہے۔‘

ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے: نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ
زین الدین احمد، اردو نیوز کوئٹہ

 
نیشنل پارٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ نہیں کرے گی۔
نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ نے اردو نیوز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ پارٹی 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے نیشنل پارٹی کو قائل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہماری پارٹی 27ویں آئینی ترمیم کے مخالفت  سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ اور وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں حکومتی وفد نے تربت جاکر نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کی اور نیشنل پارٹی کو منانے کی کوشش کی۔

 

اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی طلب

سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔
پارلیمانی لیڈر سید علی ظفر اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں تحریک انصاف،مجلس وحدت المسلمین اور سنی اتحاد کونسل کے سینیٹرز شریک ہوں گے۔
آج سہ پہر تین بجے اپوزیشن کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

حکومتی وفد کی نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالملک بلوچ سے ملاقات

سینیٹ سے 27 ویں آئینی ترمیم کا معاملے پر حکومتی وفد نے تربت میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالملک بلوچ سے ملاقات کی۔
ملاقات میں وزیراعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی، رانا ثناء اللہ سمیت دیگر شریک تھے۔
حکومتی وفد نے عبدالمالک بلوچ سے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کی درخواست ہے۔
نیشنل پارٹی کا ایک سینیٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی ہے، جان محمد بلیدی سینیٹ اور پولین بلوچ قومی اسمبلی میں نیشنل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اپوزیشن کا سینیٹ کے اجلاس میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان
صالح سفیر عباسی، اردو نیوز اسلام آباد

27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کے سینیٹ میں پیش ہونے کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد نے احتجاجی تحریک چلانے اور پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجہ ناصر عباس نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’ 27ویں آئینی ترمیم دراصل 1973 کے آئین پر حملہ ہے جس کے خلاف وہ بھرپور آواز اٹھائیں گے۔‘
اپوزیشن اتحاد کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ آج سینیٹ کے اجلاس میں بھی اس ترمیم کے خلاف سخت احتجاج کریں گا اور اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، جبکہ آج شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج ریکارڈ کروانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر: