Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف میں کمی؛ انڈین کسانوں کو کیسے فائدہ ہوگا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درجنوں غذائی اشیا کو اپنی باہمی ٹیرف پالیسی سے مستثنیٰ قرار دینے سے انڈین زرعی برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعے کو 200 سے زائد غذائی مصنوعات، بشمول بیف، پر عائد ٹیرف ختم کر دیا کیونکہ امریکی صارفین میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش بڑھ رہی تھی۔
یورپی یونین اور ویتنامی سپلائرز کو 15 سے 20 فیصد ڈیوٹی کا سامنا ہے، لیکن انڈین چائے، کافی، مصالحہ جات اور کاجو کے برآمد کنندگان کو زیادہ نقصان ہوا جب ٹرمپ نے ٹیرف کو دوگنا کر کے بعض انڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک کر دیا، جس میں انڈیا کی طرف سے روسی تیل کی خریداری پر اگست کے آخر سے 25 فیصد اضافی ٹیرف بھی شامل تھا۔
فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے ڈائریکٹر جنرل اجے سہائی کا کہنا ہے کہ ڈھائی ارب سے تین ارب ڈالر کی برآمدات کو اس ٹیرف چھوٹ سے فائدہ ہوگا۔
وسیع تجارتی مذاکرات کے لیے مثبت اشارہ
انہوں نے کہا کہ ’یہ آرڈر پریمیم، سپیشلٹی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لیے راستہ کھولتا ہے۔ جو ایکسپورٹر اعلیٰ قدر والے شعبوں کی طرف منتقل ہوں گے، وہ قیمتوں کے دباؤ سے بہتر طور پر محفوظ رہیں گے اور بڑھتی ہوئی صارفین کی طلب سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔‘
تجارت اور زرعی برآمدات کی پالیسی سے وابستہ حکام نے کہا کہ یہ چھوٹ جاری امریکہ انڈین تجارتی مذاکرات کے لیے بھی مثبت اشارہ ہے اور اس سال کے ٹیرف اضافے سے پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کر سکتی ہے۔
ستمبر میں امریکی درآمدات پر ٹیرف بڑھنے کے بعد انڈیا کی امریکی برآمدات سال بہ سال تقریباً 12 فیصد کم ہو کر 5.43 ارب ڈالر رہ گئیں۔ انڈین زرعی برآمدات، جن کا تخمینہ 2024 میں امریکہ کو ہونے والی 87 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے 5.7 ارب ڈالر ہے، بھی متاثر ہوئیں۔
ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’یہ اقدام انڈین کسانوں اور چائے، کافی، کاجو اور پھل و سبزیوں کے برآمد کنندگان کے لیے فائدہ مند ہے۔‘

انڈین ایکسپورٹرز کو خدشہ ہے کہ دیگر عوامل ممکنہ فوائد کو محدود رکھیں گے (فوٹو: روئٹرز)

گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے بانی اجے سریواستو نے کہا کہ انڈیا کی امریکہ جانے والی زرعی برآمدات، جو مصالحہ جات اور مخصوص مصنوعات پر مرکوز ہیں، محدود فائدہ اٹھا سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ لاطینی امریکہ، افریقہ اور آسیان کے سپلائرز کو زیادہ فائدہ ہونے کا امکان ہے، اور یہ واضح نہیں کہ انڈین برآمدات کو 25 فیصد باہمی ٹیرف سے چھوٹ ملے گی یا مکمل 50 فیصد ٹیرف سے۔
تاہم ایکسپورٹرز کو خدشہ ہے کہ دیگر عوامل ممکنہ فوائد کو محدود رکھیں گے، جن میں زیادہ فریٹ لاگت، ویتنام اور انڈونیشیا سے سخت مقابلہ اور امریکہ کے سخت معیار شامل ہیں۔
ایک ایکسپورٹر نے کہا کہ ’ٹیرف میں ریلیف اہم ہے، لیکن مارکیٹ کی بحالی کا انحصار لاجسٹکس اور ہماری قیمتوں کے مطابق ہونے کی صلاحیت پر بھی ہے۔‘

 

شیئر: