Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ولی عہد کی واشنگٹن میں امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر اور ارکان سے ملاقات

ولی عہد کپیٹل بلڈنگ پہنچے تو سپیکر مائیک جانسن نے ان کا خیرمقدم کیا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کی صبح امریکی کپیٹل بلڈنگ میں امریکی ایون نمائندگان کے سپیکر، ارکان اور مختلف کمیٹیوں کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے۔ 
 امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے ایک استقبالیے کا اہتمام کیا، جس میں کچھ ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن ارکان نے شرکت کی۔
ایس پی اے کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کے رہنماوں نے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں سعودی ولی عہد نے کئی اہم امور جن میں حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی وزیرتوانائی اور سعودی امریکن سٹریٹیجک اکنامک پارٹنر شپ کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان، وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر مملکت، کابینہ کے رکن اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العبیان، وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد القصبی، وزیرخزانہ محمد الجدعان اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کا کیپیٹل بلڈنگ دورہ امریکہ کے جاری سرکاری دورے کا حصہ ہے جس میں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں کئی سٹرٹیجک معاہدوں پر دستخط شامل ہیں۔
الاخباریہ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کپیٹل بلڈنگ پہنچے تو سپیکر مائیک جانسن نے ان کا خیرمقدم کیا۔
امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان سے ملاقات کے بعد ولی عہد سعودی، امریکی انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کےلیے روانہ ہوگئے۔
یاد رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ’سعودی عرب، امریکہ میں سرمایہ کاری کو ایک ٹریلین ڈالر تک بڑھا دے گا جبکہ پہلے 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا۔‘
قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان وائٹ ہاؤس پہنچنے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا خیرمقدم کیا، اس موقعے پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
امریکی لڑاکا طیاروں نے خیرمقدمی تقریب کے دوران وائٹ ہاؤس کے اوپر سے فلائی پاسٹ کیا۔ طیاروں کا فلائی پاسٹ دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

شیئر: