Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرق وسطیٰ میں حملوں کا چھٹا روز، ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوج کی کارکردگی کو سراہا ہے (فوٹو: ایکس، وائٹ ہاؤس)
ایران کی جانب سے جمعرات کی صبح اسرائیل اور مشرق وسطیٰ پر حملوں کے ساتھ جنگ چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس سے قبل بدھ کو ایرانی بحری جہاز امریکی آبدوز کا نشانہ بننے کے بعد ڈوب گیا تھا اور ایران نے خطے بھر میں معاشی و فوجی انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
  دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے لبنان میں بیروت کے جنوبی حصے کے مضافات میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں پر نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔
بدھ کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر بمباری کا سلسلہ تیز کیا گیا اور اس کے بعد شدید لڑائی جاری رہی۔
ایران پر حملوں کا سلسلہ اس قدر تیز رہا کہ سرکاری ٹیلی ویژن پر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت بعد سوگ میں ہونے والی تقریب کو ملتوی کر دیا جائے گا۔
وہ اسرائیل اور امریکہ ابتدائی حملوں میں ہلاک ہو گئے اور ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل نے سنیچر کو حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں ایران کی سیاسی و فوجی قیادت کے علاوہ جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ان کی جانب سے حملوں کا مقصد وہاں حکومت کی تبدیلی بتایا گیا تاہم اس کے بعد یہ مؤقف تبدیل ہوتا رہا جس سے ایک کھلی جنگ کے اشارے مل رہے ہیں۔
لڑائی کی وجہ سے دنیا میں تیل اور گیس کی سپلائی میں خلل پڑا ہے، بین الاقوامی جہاز رانی رک گئی ہے جبکہ فضائی سروس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔

حملوں کی وجہ سے فضائی سروس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ہزاروں مسافر مشرق وسطیٰ میں پھنسے ہوئے ہیں (فوٹو: اے پی)

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز امریکہ کی فوج کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’وہ محاذ پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘
اسی طرح سینیٹ میں ریپلکن ارکان بھی ایران جنگ کے معاملے پر صدر ٹرمپ کھڑے دکھائی دیے اور جنگ روکنے کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیے۔
 علاوہ ازیں ترکیہ کا کہنا ہے کہ ایران نے اس کی طرف بیلسٹک میزائل داغا جس کو نیٹو نے دفاعی سسٹم نے اس کو ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی تباہ کر دیا۔
متعلقہ کی جانب سے سرکاری طور پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں اب تک اس جنگ کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ لبنان میں 70 اور اسرائیل میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

امریکی سینیٹ کے ارکان نے ایران کی جنگ کے ایشو پر صدر ٹرمپ کی حمایت کی ہے (فوٹو: روئٹرز)

امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات امریکی آبدوز نے ایک ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنایا اور وہ بحر ہند میں ڈوب گیا۔
سری لنکا کے حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس جہاز پر سوار افراد میں سے 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ 32 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
اسی طرح اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے ایران میں بسیج کی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جو پاسداران انقلاب کی نیم فوجی رضاکار فورس ہے اور جنوری میں مطاہرین کے خلاف اسی فورس نے کریک ڈاؤن کیا تھا جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر تہران میں کھنڈر بننے والی عمارتوں کے مناظر دکھائے گئے اور لوگوں نے انٹرویوز میں بتایا کہ حملوں سے ان کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے قائم کی گئی عمارت بھی دکھائی گئی اور بتایا گیا کہ اس کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم اس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔

شیئر: