Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عسیر ریجن میں اسلام کے ابتدائی دور کی ’مسجد الحوزۃ‘ کی تعمیرِ نو

مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے دوسرے مرحلے میں عسیر ریجن کے جنوب میں اسلام کے ابتدائی دورکی ’مسجد الحوزۃ‘ کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کر لیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق تاریخی روایات کے مطابق عسیر ریجن کی کمشنری ظھران الجنوب میں واقع مسجد الحوزۃ آٹھویں صدی ہجری میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اس وقت تعمیر کرائی تھی جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن میں اسلام کی تبلیغ کےلیے بھیجا تھا۔
مسجد الحوزۃ کی مختلف مراحل میں تعمیر و توسیع کی جاتی رہی۔ تاہم 1213 ہجری میں پہلی توسیع کی گئی۔ بعدازاں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے عہد میں 1353 ہجری میں مسجد میں توسیع ہوئی۔
یہ مسجد علاقائی طرز تعمیرکا شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر میں چکنی مٹی اور علاقے میں موجود درختوں کی لکڑی استعمال کی گئی۔
تعمیری انداز علاقائی ماحول سے ہم آہنگ تھا۔ مسجد کے ایک کونے میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کنواں بھی بنایا گیا۔
سنہ 2022 میں پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ میں اس تاریخی مسجد کو شامل کیا گیا تھا۔

مسجد کی تعمرِ نو اور توسیع کے بعد اس کا مجموعی رقبہ 293 مربع میٹر ہو گیا جبکہ مصلوں کی گنجائش 100 سے بڑھ کر 148 کر دی گئی۔
ظھران الجنوب میں مسجد الحوزۃ کی تعمیر نو تاریخی مساجد کے تحفظ کے لیے قومی کوششوں میں ایک اہم اقدام کی نمائندگی کرتی ہے جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف میں شامل ہے۔

 

شیئر: