سعودی عرب کا تاریخی گاوں ’الدوید‘ جہاں ایئرپورٹ بھی تھا
انتطامی اور تجارتی تشکیل کے لیے اہم سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدود الشمالیہ ریجن کا تاریخی گاوں ’الدوید‘ خطے کی تاریخ میں ابتدائی انتطامی اور تجارتی تشکیل کے لیے اہم سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے۔
1948 میں ٹیپ لائن معاہدے کے بعد اسے علاقے کے پہلے کپیٹل کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
سعودی خبررساں ایجنسی(ایس پی اے) کے مطابق ’الدوید‘ علاقے کا پہلا انتظامی دارالحکومت مانا جاتا تھا، سال ہجری 1376 میں گورنریٹ کو عرعر میں منتقل کرنے سے قبل تک یہ علاقہ اہم انتظامی اور اقتصادی مرکز رہا۔
یہاں گورنریٹ اور عدالت بھی تھی، اس کے علاوہ تعلیمی اور دیگر خدمات کے ادارے بھی موجود تھے جن میں اہم ترین ’الدوید سکول‘ ہے جس کے آثار جو چند کمروں پر مشتمل ہیں تاحال موجود ہیں۔
علاوہ ازیں ایک تاریخی مسجد بھی ہے جسے 1367 ھجری میں تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ مسجد شہزادہ محمد بن سلمان پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں شامل ہے جس کے تحت تعمیرِ نو و بحالی کا کام کیا جا رہا ہے۔
الدوید گاوں آٹھ دہائی قبل تک عراق اور نجد سے آنے والے تجارتی قافلوں کے لیے انتہائی اہم تھا، یہاں کا ’المشاہدہ بازار‘ اہم تجارتی مرکز مانا جاتا جس کے تابناک تاریخی شواہد آج بھی موجود ہیں۔‘

یہاں ایئرپورٹ کے رن وے کے آثار بھی موجود ہیں جو مملکت کے شمالی علاقے کا سب سے پرانا ایئرپورٹ تھا، جسے ٹیپ لائن کمپنی نے 20 ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کرایا تھا۔
اس ایئرپورٹ پر کئی مشہور شخصیات آئیں جن میں شاہ سعود بن عبدالعزیز آل سعود شامل ہیں جس سے اس کی تاریخی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔
