بلوچستان میں وزیراعلٰی کی ممکنہ تبدیلی سے متعلق خبروں نے صوبے کا سیاسی ماحول گرم کر دیا ہے۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب مسلم لیگ ن کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر دوستین ڈومکی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی نے اندر سے ہی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ جلد ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے نیا وزیراعلٰی آئے گا۔‘
دوستین ڈومکی نے کہا کہ ’ن لیگ اور پیپلز پارٹی ک درمیان بلوچستان میں اڑھائی اڑھائی سال حکومت کرنے کا معاہدہ ہے، تاہم اس وقت تک اڑھائی سال پورے نہیں ہوئے اس لیے اگلا وزیراعلٰی بھی پیپلز پارٹی سے آئے گا، تاہم اڑھائی سال مکمل ہونے کے بعد ن لیگ کا وزیراعلٰی آئے گا۔‘
مزید پڑھیں
لیگی سینیٹر نے وزیراعلٰی سرفراز بگٹی کو کرپشن، بیڈ گورننس اور بدامنی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی اور کہا کہ ’موجودہ وزیراعلٰی کے آنے کے بعد سے صوبے کے حالات مزید بدتر ہوگئے ہیں اور شہری ٹرین یا سڑک کے ذریعے سفر نہیں کرسکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو 40 ارب روپے دیے گئے مگر گذشتہ ڈیڑھ سال میں کوئی آفت نہیں آئی۔ کوئی پتا نہیں یہ رقم کہاں خرچ ہوئی؟ اس کا کوئی حساب کتاب معلوم نہیں۔‘
تاہم خود مسلم لیگ ن کے کئی اہم رہنما اپنی جماعت کے سینیٹر کے بیان کی تائید نہیں کر رہے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیراعلٰی کی تبدیلی سے متعلق کسی فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
تاہم سما ٹی وی کے ایک پروگرام میں انہوں نے تصدیق کی کہ ’پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بلوچستان میں اڑھائی اڑھائی سال کے شراکت اقتدار کا معاہدہ موجود ہے۔‘
بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر سلیم کھوسہ نے دوستین خان ڈومکی کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ کے ارکان کا وزیراعلٰی سرفراز بگٹی پر مکمل اعتماد ہے، موجودہ حالات میں تبدیلی کی باتیں مناسب نہیں اور پارٹی قیادت اس بیان کا نوٹس لے گی۔‘

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی تبدیلی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ایسے کسی فیصلے کے بارے میں انہیں علم نہیں۔‘
اے آر وائی نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں مشکل صورت حال کے باعث اس وقت وزیراعلٰی کی تبدیلی نقصان دہ ہوگی۔‘
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کئی جماعتوں کے ساتھ اتحاد ہے، قبائلی ماحول، شدت پسند، قوم پرست تحریک اور طالبان تحریک کی موجودگی میں حکمرانی آسان نہیں، اس کے سامنے وزیراعلٰی بلوچستان بڑی جرات کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
اسی طرح پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر سینیٹر عمر گورگیج اور بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر صادق عمرانی نے بھی قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ وزیراعلٰی کو پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے دوستین ڈومکی کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں اعتراضات ہیں تو وہ اپنی پارٹی قیادت سے رجوع کریں۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور ایم پی اے علی مدد جتک نے بھی وزیراعلٰی کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’تبدیلی کی باتیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہیں، عوام ایسے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔‘
علی مدد جتک کا مزید کہنا تھا کہ ’پارٹی ایسا کوئی فیصلہ کرتی تو بلوچستان میں سینیئر اراکین کو ضرور اعتماد میں لیتی لیکن اب تک پارٹی نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سرفراز بگٹی پانچ سالہ مدت پوری کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی میر لیاقت لہڑی بھی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے شدید اختلافات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کا کہنا ہے کہ لیاقت لہڑی کے خلاف پارٹی کی مرکزی قیادت کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔
بلوچستان کی سطح پر اگرچہ شراکت اقتدار کے معاہدے پر بحث ہوتی رہی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اتحادی جماعت ن لیگ کے کسی نمایاں رہنما نے وزیراعلٰی پر کھل کر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر دوستین ڈومکی سابق سینیٹر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے اور نواب اکبر خان بگٹی کے نواسے ہیں۔ اُن کا تعلق بلوچستان کے ضلع سبی کے علاقے لہڑی کے معروف سیاسی گھرانے سے ہے۔
وہ اس سے پہلے رکن قومی اسمبلی اور شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بھائی علی مردان ڈومکی 2023 میں نگراں وزیراعلٰی بنے۔ 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی بنی تو دوستین ڈومکی اور سرفراز بگٹی اس جماعت میں اکٹھے رہے۔ دوستین ڈومکی 2023 میں ن لیگ میں دوبارہ شامل ہوئے اور 2024 میں ضمنی انتخاب میں سینیٹر بنے۔ ان کے چچا زاد بھائی سردار کوہیار ڈومکی سرفراز بگٹی کی موجودہ کابینہ کا حصہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی دباؤ ڈالنے اور ذاتی اختلافات کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے اندرونی فیصلے سے متعلق خبر مسلم لیگ ن کے سینیٹر کے بیان کی زیادہ اہمیت نہیں ہوسکتی۔
تجزیہ کار جلال نورزئی کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کے اندر کوئی فیصلہ ہوا بھی ہوتا تو اطلاعات ان کی طرف سے آتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی کے بعض ارکان اسمبلی کے وزیراعلیٰ سے اختلافات اور تحفظات ہیں، تاہم مجموعی طور پر پارٹی کے اندر وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے لیے کوئی مضبوط آواز موجود نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت بھی ایسے کسی فیصلے پر بات نہیں کر رہی جبکہ پارلیمانی لیڈر سلیم کھوسہ بھی تردید کر چکے ہیں۔
جلال نورزئی کے مطابق ن لیگ اگرچہ اڑھائی اڑھائی سال کے معاہدے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ بلوچستان کے موجودہ حالات میں ایسے کسی معاہدے پر عملدرآمد بھی مشکل نظر آتا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے 65 رکنی ایوان میں حکومت کے لیے 33 ارکان درکار ہیں اور ماضی کی طرح فروری 2024 کے انتخابات میں بھی کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بڑی جماعتیں بن کر سامنے آئیں جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت تشکیل دی۔












