گارڈز پر فائرنگ: امریکہ جانا مزید مشکل، ’گرین کارڈز کا بھی جائزہ‘
گارڈز پر فائرنگ: امریکہ جانا مزید مشکل، ’گرین کارڈز کا بھی جائزہ‘
منگل 2 دسمبر 2025 6:12
صدر ٹرمپ نے افغانستان کے پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں کو ویزے نہ دینے کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پچھلے ہفتے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے بعد سے غیرملکیوں کے امریکہ میں داخل ہونے کی راہ مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے پناہ گزینوں کی درخواستوں پر عملدرآمد روکنے کا اعلان کیا تھا جبکہ افغانستان کے پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں کو ویزہ نہ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں پناہ کے ضمن میں ہونے والے فیصلوں کو روکا جا رہا ہے جبکہ ’تحفظات رکھنے والے‘ ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے گرین کارڈز کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ افغانوں کے لیے ویزوں کے سلسلے کو بھی روک دیا گیا ہے۔
ایک روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ ’لمبے عرصے کے لیے‘ پناہ کی درخواستوں پر پابندی زیرغور ہے۔
اسی طرح چند روز قبل اے پی کی ہی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ان تمام لوگوں کے کیسز کا بھی پھر سے جائزہ لے رہی ہے جو سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ میں داخل ہوئے۔
ان اقدامات کے بعد مہاجرین کے حامیوں اور افغان شہریوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی جانب سے انتہائی سخت تنقید سامنے آئی ہے اور اس کو ’اجتماعی سزا‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کیسز کو دوبارہ کھولنا سرکاری وسائل کا ضیاع ہے کیونکہ ان پر پہلے ہی کارروائی ہو چکی ہے۔‘
26 نومبر کو وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک خاتون گارڈ ہلاک اور ایک مرد اہلکار زخمی ہوا تھا (فوٹو: روئٹرز)
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئی پالیسیاں اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ جو لوگ ملک میں داخل ہو رہے ہیں یا پہلے سے ملک میں موجود ہیں ان سے یہاں کسی کو خطرات تو لاحق نہیں۔
یو ایس سٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے پچھلے ہفتے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’پناہ کے تمام فیصلے تب تک روکے جائیں گے جب تک ہم کو یہ یقینی طور پر ملک میں موجود کسی بھی اجنبی شخص کی مکمل طور پر جانچ پڑتال نہیں ہو جاتی۔‘
ایسے بیانات کے بعد ہونے والی کارروائی کے حوالے سے کوئی رسمی ہدایات جاری نہیں کی گئیں اس لیے اس بارے میں ابھی تک بہت کم معلومات سامنے آئی ہے۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد سے امریکہ کی امیگریشن پالیسی میں سختیوں کا سلسلہ جاری ہے (فوٹو: روئٹرز)
پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ضروری ہے وہ امریکی حکام کو ان خطرات کے بارے میں بتائیں جو واپس بھجوانے کی صورت میں لاحق ہو سکتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل یا قومیت سے ہو۔
اگر امریکہ میں کسی کو پناہ ملتی ہے تو پھر ان کو وہاں رہنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے جس کے بعد گرین کارڈ اور شہریت کے معاملات بھی آگے بڑھتے ہیں۔
26 نومبر کو وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس میں رحمان اللہ لنکوال نام کا افغان شہری ملوث ہے اور اس کو رواں سال کے آغاز میں ہی پناہ دی گئی تھی جبکہ وہ 2021 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ پہنچا تھا۔
وہ افغانستان میں امریکی حکام کے ساتھ کام کرتا رہا تھا اور اس نرم پالیسی کے تحت امریکہ پہنچا تھا جو ان افغان شہریوں کے لیے متعارف کرائی گئی تھی جنہوں نے وہاں امریکی حکام کی مدد کی تھی۔
اس واقعے میں دو گارڈز نشانہ بنے تھے جن میں خاتون گارڈ ہلاک ہو گئی تھیں اور مرد اہلکار شدید زخمی ہوا تھا۔