Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ’افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں‘ کو ویزے جاری نہیں کرے گا

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سخت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے افراد کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ان کا محکمہ ’افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ویزوں کا اجرا روک رہا ہے۔‘
افغانوں کی دوبارہ آبادکاری میں مدد کرنے والے امریکی رضاکار گروپوں کے اتحاد 'افغان اویک‘ کے صدر شان وینڈائیور نے ردعمل میں کہا کہ ’وہ ایک پُرتشدد فرد کو بہانہ بنا کر ایسی پالیسی کو نافذ کر رہے ہیں جس کا وہ پہلے سے منصوبہ بنا چکے تھے۔ وہ اپنی انٹیلی جنس کی ناکامیوں کو پوری کمیونٹی اور ان سابق فوجیوں کو سزا دینے کا جواز بنا رہے ہیں جو ان افغانوں کے ساتھ خدمت کر چکے ہیں۔‘
اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے روکنے کا اعلان کیا تھا۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ ’پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے اُس وقت تک روک دیے گئے ہیں جب تک ہم یہ یقین نہ کر لیں کہ ہر اجنبی کی مکمل طور پر جانچ اور سکریننگ ہو چکی ہے۔‘
واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کر کے ایک کو ہلاک کرنے کے الزام میں افغان شہری پر فرسٹ ڈگری قتل کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
روئٹرز کے مطابق ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اٹارنی جینین پیرو نے جمعے کو فاکس نیوز پر بتایا کہ 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے خلاف مزید الزامات بھی لگائے جائیں گے۔ 
ان کے مطابق ملزم نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے قریب ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔
خیال رہے کہ بدھ کو ایک افغان نژاد شہری نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔
تفتیش کاروں نے 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال نامی حملہ آور کا تعلق افغانستان سے بتایا ہے، جو امریکی شہری ہے اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کر رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اس حملے کو ’برائی، نفرت اور دہشت گردی‘ کی کارروائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص 2021 میں اُن ’بدنامِ زمانہ پروازوں‘ کے ذریعے امریکہ پہنچا تھا جن سے افغان شہریوں کا انخلا کیا جا رہا تھا۔

شیئر: