Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا میں آثار قدیمہ کی دریافتوں پر نئی ریسرچ کیا کہتی ہے؟

نئی ریسرچ آثار قدیمہ کے معروف جریدے میں شائع کی گئی ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
رائل کمیشن برائے العلا گونریٹ اور فرانسیسی نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ ٹیم کی مشترکہ نئی ریسرچ جزیرہ نما عرب اور مشرق وسطی کے آثار قدیمہ کے معروف جریدے میں شائع کی گئی ہے۔
 ریسرچ میں العلا جس کا قدیم نام وادی القری تھا کے بارے میں معلومات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ں تیسری صدی سے ساتویں صدی عیسوی تک کی تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
 ریسرچ ایسے دور سے متعلق ہے جو شمال مغربی عرب میں ’نبطی‘ دور کے اختتام اور اسلامی دور کے آغاز کے درمیان پرمشتمل ہے۔
اس حوالے سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ تیما، خیبر اور الحجر وغیرہ کے علاقوں سے آبادکاری میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی تھی۔
آثار کی دریافت تین مراحل یعنی سال 2021 سے 2023 تک مشتمل رہی جن میں ’دادان‘ کے آثار قدیمہ منصوبے پر کافی کام کیا گیا۔

کھدائی  کے دوران ایک بڑی عمارت کی باقیات دریافت ہوئیں جو تیسری یا چوتھی صدی عیسوی کے اوائل میں تعمیر کی گئی ہوگی۔ امکان ہے عمارت ساتویں صدی کے پہلے نصف تک استعمال میں رہی ہوگی۔
آثار کی دریافت میں جوعمارت سامنے آئی اس میں انتہائی منظم طریقے سے کمرے بنائے گئے تھے جبکہ برآمدے اور مرکزی صحن جس میں کنواں اور پانی کا ایک حوض بھی تھا جس کے ساتھ نالیاں بنائی گئی تھیں ۔علاوہ ازیں علاقائی زراعت اور کھیتی باڑی کے آثار بھی پائے گئے۔
 سیاحت و ثقافت کی کمپٹی برائے العلا گورنریٹ ڈاکٹر عبدالرحمن السحیبانی کا کہنا تھا ’ ریسرچ کے نتائج وادی القری کی تاریخ کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ العلا گورنریٹ ظھور اسلام سے قبل کافی مقبول مقام رہا ہوگا۔

 

شیئر: