Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گیس فیلڈ پر حملہ ایران کے دعوے کی نفی ہے کہ وہ صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے: قطری وزیراعظم

قطر انرجی کے سی ای او سعد القابی نے روئٹرز کو بتایا کہ حملوں کی وجہ سے قطر کی ایل این جی  برآمدی صلاحیت کا 17 فیصد متاثر ہوا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
 قطر کے وزیرِ اعظم نے جمعرات کو کہا کہ ایران کا قطر میں دنیا کے سب سے بڑے گیس مرکز پر حملہ، تہران کے اس دعوے کی نفی ہے کہ وہ خلیج میں صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ ’ایرانی دعوے مسلسل یہ ہیں کہ یہ حملے امریکی مفادات کے خلاف ہیں… اور یہ دعویٰ قابلِ قبول نہیں اور رد کیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کا واضح ثبوت کل کا حملہ ہے، جس میں قطر کی قدرتی گیس کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بدھ کی شام ایران نے میزائلوں سے راس لفان انڈسٹریل سٹی  پر حملہ کیا، جس سے شدید نقصان ہوا اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ تنصیب، جو دنیا کی مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ پروسیس کرتی ہے، پہلے ہی پچھلے حملوں کے سبب پیداوار روک چکی تھی۔
قطر انرجی کے سی ای او سعد القابی نے روئٹرز کو بتایا کہ حملوں کی وجہ سے قطر کی ایل این جی  برآمدی صلاحیت کا 17 فیصد متاثر ہوا، جس سے سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور یورپ و ایشیا کے لیے سپلائیز خطرے میں آ گئیں۔
انہوں نے کہا کہ قطر کی ایک این جی 14 ٹرینوں میں سے دو اور دو گیس ٹو لکوئڈز (GTL) میں سے ایک تنصیب حملے میں متاثر ہوئی۔ مرمت کے بعد تین سے پانچ سال تک سالانہ 12.8 ملین ٹن  ایل این جی پیداوار معطل رہے گی۔
القابی نے کہا کہ ’میں نے کبھی بھی خواب میں نہیں سوچا تھا کہ قطر اور خطہ ایسے حملے کا شکار ہوگا، خاص طور پر رمضان کے مہینے میں ایک بھائی مسلمان ملک سے۔‘
انہوں نے کہا کہ متاثرہ دو ٹرینوں کی وجہ سے قطر انرجی کو ممکنہ طور پر اٹلی، بیلجیم، جنوبی کوریا اور چین کے لیے طویل المدتی  ایل این جی سپلائی پر فورس ماجور کا اعلان کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایران نے عرب خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات پر اسرائیل کے پارس گیس فیلڈ پر حملے کے جواب میں حملے کیے۔
سعودی بندرگاہ ینبع کی ریفائنری پر جمعرات کو ڈرون حملہ ہوا، جبکہ کویتی ریفائنری میں بھی ڈرون حملوں کے باعث آگ لگی۔
قطر ان عرب اور اسلامی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سعودی عرب میں اجلاس کے بعد تہران سے جارحیت روکنے کا متحدہ مطالبہ کیا۔

شیئر: